
نیویارک : اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ میاں بیوی میں علیحدگی سے متعلق طالبان حکومت کا نیا حکم نامہ منظم امتیاز کو مضبوط اور خواتین کے حقوق کو کمزور کرتا ہے۔ طالبان حکومت کے اکتیس دفعات پر مشتمل ضابطے میں علیحدگی کیلئے شوہر کا طویل عرصے تک لاپتہ رہنا، میاں بیوی کے درمیان ہم آہنگی کا نہ ہونا۔ اسلام سے دست برداری اور شوہر کا اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنا شامل ہیں۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایسے تمام نکاح نامے منسوخ کیے جا سکتے ہیں جو کسی نابالغ لڑکے یا لڑکی کی طرف سے اُن کے رشتہ داروں نے کیے ہوں. اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی نائب نمائندہ خصوصی جارجیٹ گانیوں نے کہا کہ نئے ضابطے تشویش ناک رجحان کا حصہ ہیں جس میں افغان خواتین کے حقوق مسلسل کم کیے جا رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حکم نامہ قانونی اور عملی سطح پر منظم امتیاز کو مزید گہرا کرتا ہے اور خواتین و لڑکیوں کو خودمختاری مواقع اور انصاف تک رسائی سے محروم کرتا ہے۔


































