
تہران: ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو پرامن مظاہروں کا نہیں بلکہ دہشت گرد جماعتوں کا سامنا ہے۔ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کےاجلاس ڈے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کو فروغ دینے والےعناصر کی بدنیتی پر مبنی مداخلت کے بعد پرامن شہری پرتشدد ہو گئے۔ مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے ہر شخص کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ہمارے لیے انسانی حقوق کا احترام ایک اہم قدر ہے جو ہمارے عقائد میں پیوست اور جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے امریکا اور اس کی زیرقیادت مٹھی بھر ریاستوں کی جانب سے انسانی حقوق کے تصور میں اپنے سیاسی مقاصد کے مطابق ہیر پھیر کرنے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہاکہ ان مٹھی بھر ریاستوں نےکونسل سمیت انسانی حقوق کے اداروں کو خارجہ پالیسی کے ایک آلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے میکانزم حقیقی مکالمے، تعمیری بات چیت اور قابل احترام تعاون کے ذریعے انسانی حقوق کےفروغ اور تحفظ میں کردار ادا کرسکتےہیں۔ایرانی وزیرخارجہ نے کہاکہ انسانی حقوق کونسل کو لوگوں کےمساوی حقوق اور خود ارادیت کےاصول کےاحترام کی بنیاد پر اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا چاہیے۔ جبکہ عملی طور پر کونسل کو کچھ ایسے ایجنڈے اختیار کرنے پرمجبور کیا گیا ہے جو نہ تو ایسے مقاصد اور اصولوں کو پورا کرتے ہیں اور نہ ہی وہ قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات میں حصہ ڈالتے ہیں۔


































