Mon Oct 12, 2026

یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

روزانہ کی خبریں

امریکا کے ڈیفالٹ ہونے کا خدشہ، عالمی معیشت پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے، آئی ایم ایف

واشنگٹن : بین الاقوامی مالیاتی فنڈز نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی معیشت گراوٹ کا شکار ہوئی تو پھر عالمی معیشت پر اس کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران آئی ایم ایف کی ترجمان جولی کوزیک نے کہا کہ ملکی قرضوں کے تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے امریکا کے ڈیفالٹ ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں جو عالمی معیشت کے لیے بہت زیادہ سنگین ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کو علاقائی بینکوں سمیت امریکی بینکنگ سیکٹر میں نئی کمزوریوں پر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، جو کہ زیادہ شرح سود کے ماحول میں ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں سامنے آسکتی ہیں۔ کوزیک نے کہا کہ آئی ایم ایف فوری طور پر ان اثرات کا اندازہ نہیں لگا سکتا جو امریکی ڈیفالٹ کی صورت میں عالمی شرح نمو پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرح سود میں اضافے کی وجہ سے بھی امریکا کے ڈیفالٹ ہونے کے خطرات ہیں اور اسی وجہ سے عالمی معیشت عدم استحکام کا شکار ہورہی ہے، ہم ان شدید اثرات سے بچنا چاہتے ہیں۔
آئی ایم ایف کی ترجمان نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ متحدہ ہو کر معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں اور جلد از جلد بڑے فیصلے کر کے معاملے کو حل کریں۔دوسری جانب امریکی حکومت میں 31.4 ٹریلین ڈالر کے قرض کی حد کو بڑھانے کے بارے میں تفصیلی بات چیت بدھ کے روز شروع ہوئی جب ریپبلکن نے اخراجات میں کٹوتیوں پر اصرار کیا اور ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن اور کانگریس کے اعلیٰ ریپبلکن کیون کی تین ماہ میں پہلی بار اس معاملے پر ملاقات ہوئی۔ یو ایس ٹریژری سیکریٹری جینٹ ییلن نے خبردار کیا ہے کہ اگر کانگریس قرض لینے کی حد کو بڑھانے میں ناکام رہتی ہے تو یکم جون سے پہلے امریکا ڈیفالٹ ہوسکتا ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular