
اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے، فواد چودھری اور اسد عمر کے بعد وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد میں گلگت بلتستان ہاؤس سے گرفتار کیا گیا۔
اسلام آباد پولیس نے بدھ کی دوپہر بھی شاہ محمود قریشی کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ گرفتار نہ ہوسکے تھے۔ ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا، اسلام آباد اور پنجاب میں حالیہ جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی کے مقدمات میں بھی پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین نامزد ہیں۔
گرفتاری سے پہلے شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ کوئی غلط کام نہیں کیا، کوئی اشتعال انگیز بیان نہیں دیا، ان پر کور کمانڈر لاہور واقعہ کا لگا الزام جھوٹ ہے۔
دوسری طرف آج علی الصبح پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما و سابق معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ آج صبح پولیس نے خواتین پی ٹی آئی رہنماؤں کو بھی گرفتار کر لیا ہے، گرفتار ہونیوالی رہنماؤں میں مسرت جمشید چیمہ، ملیکہ بخاری، عالیہ حمزہ اور فلک ناز چترالی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری کو گزشتہ رات ساڑھے 11 بجے کے قریب سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا، فواد چودھری گرفتاری سے بچنے کیلئے تقریباً 12 گھنٹے سپریم کورٹ کی عمارت میں موجود رہے۔ اس دوران فواد کے بھائی فیصل چودھری نے چیف جسٹس سے ملاقات کی کوشش کی، فیصل چودھری چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے گھر بھی گئے مگر بات نہ بن سکی۔


































