
بغداد : عراق کی سیاسی جماعت حکمت ملی كے سربراہ سید عمار الحکیم نے کہا کہ عراقی فوج 2003ء میں سخت چیلنجز، مشکلات اور دہشت گردی کے وسیع خطرے کے سامنے دوبارہ کھڑی ہوئی۔ مسلح افواج کے ساتھ ساتھ، سیکورٹی ادارے اور الحشد الشعبی جیسی دفاعی فورسز نے ان خطرات سے براہِ راست نمٹنے کے لئے جنم لیا اور اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کیا۔ سید عمار الحکیم نے ان خیالات کا اظہار فوج کے یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ تقریب سے اپنے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے دفاعی و عسکری محاذ پر اسٹریٹجک تقاضوں کی جانب توجہ دلائی۔ انہوں نے ائیر ڈیفنس کی ضرورت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فضائی برتری و کنٹرول کے بغیر خودمختاری کا تصور نامکمل ہے۔ ڈرونز، گائیڈڈ میزائلز اور جیمنگ صلاحیت والے ہتھیاروں کے میدان میں جدت کے بعد، فضائی دفاع ایک اسٹریٹجک نقطہ بن چکا ہے۔


































