
راولپنڈی : شیعہ علماء کونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متنازعہ ترمیمی بل کی منظوری کے بعد کی صورت حال ارباب اقتدار، حکومت اور ریاستی اداروں کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔ انہوں نے گلگت کے ملعون قاضی نثار کی طرف سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزم کی فی الفور گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ علامہ سبطین سبزواری کا کہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت ملک میں غیر ضروری فرقہ وارانہ بحث شروع کروائی گئی جس کی بنیاد تکفیری دہشتگرد گروہ کا چور دروازے سے منظور کیا جانے والا متنازعہ ترمیمی فوجداری بل ہے، جسے ملت جعفریہ یکسر مسترد کر چکی ہے، ہم نے واضح کیا ہے کہ کوئی قانون سازی اہل تشیع کو اعتماد میں لیے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں، کسی کا عقیدہ چھیڑو نہیں‘ کے اصول پر عملدرآمد کرکے ہی ملک میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ علامہ سبطین سبزواری نے انجمن امامیہ اسکردو کے صدر علامہ سید باقر حسین الحسینی کے متنازعہ بل پر موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلتستان کے مجاہد عالم دین نے ملت جعفریہ کا موقف واضح انداز میں پیش کر دیا ہے۔ ملک بھر سے ملت جعفریہ ان کے تائید کرتی ہے اور ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ کوئی مائی کا لال شیعہ کو دیوار سے لگانے کی جرات نہیں کر سکتا۔ ہماری تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ ہم کوئی ایسا اقدام برداشت نہیں کریں گے جو ہماری مذہبی آزادیوں میں رکاوٹ بنے۔


































