
گلگت: مرکزی انجمنِ امامیہ گلگت بلتستان کا حالیہ پرتشدد واقعات اور سیکیورٹی صورتحال پر اہم اجلاس ہوا جس میں ملکی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ وقت اور سیکیورٹی اداروں کے سامنے سات نکاتی مطالبات پیش کیے گئے۔ انجمن نے واضح کیا ہے کہ ملتِ تشیع نے ہمیشہ ملک کی سالمیت اور افواجِ پاکستان کے ساتھ مل کر دفاعِ وطن میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے، تاہم بے گناہ انسانی جانوں کا ضیاع کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کی مظلومانہ شہادت کے موقع پر گلگت بلتستان کے تمام مکاتبِ فکر، سیاسی و سماجی شخصیات، علمائے کرام اور سرکاری افسران کی جانب سے تعزیت اور یکجہتی کے پیغامات کو سراہا گیا۔ انجمن نے واضح کیا کہ ہم ملک عزیز کو امریکی و اسرائیلی مفادات سے پاک کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔
اجلاس میں منظور کئے گئے مشترکہ چارٹر آف ڈیمانڈ میں یکم مارچ کے واقعات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے اور تمام ریکارڈ محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہےکہ جب تک جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں۔ کسی بھی قسم کی غیر قانونی گرفتاری سے گریز کیا جائے۔ گلگت بلتستان اور ملک بھر کے شہدا کے لواحقین کو 50 لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کو 25 لاکھ روپے دیے جائیں، ساتھ ہی شہدا کے خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے۔ سویلین معاملات میں فوجی عدالتوں کے قیام کو مسترد کیا گیا ہے۔ ایف سی کی تعیناتی، پولیس اور جی بی اسکاؤٹس پر عدم اعتماد کا اظہار ہے اسے واپس بلایا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے شہدا کے لواحقین سے ان واقعات پر معافی مانگیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جن سیکیورٹی اداروں نے نہتے سوگواروں پر فائرنگ کی یا اپنی ذمہ داریوں میں غفلت برتی ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
انجمنِ امامیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر انصاف کے حصول میں رکاوٹ ڈالی گئی تو وہ پرامن جمہوری و قانونی احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کا دائرہ کار گلگت سے خنجراب تک پھیلایا جا سکتا ہے۔


































