آیت اللہ محمدتقی مصباح یزدی
جیسا کہ گذشتہ شمارہ میں بیان کیاگیاکہ مجموعی طور پر سیر و سلوک کے مراحل کو تین مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے کہ جو توحید افعالی سے آغاز اور توحید ذاتی پر ختم ہوتے ہیں۔
جب بھی ہماری انانیت منہ نکالے کہ کام کو اپنی طرف نسبت دینا چاہیے تو اس انانیت کے منہ پر طمانچہ ماریں۔ دوسرے الفاظ میں، اپنے ارادہ کو خدا کے ارادے کا تابع بنا دیں۔ جو چیز سبب بنی ہے کہ ہمارے اور خدا کے درمیان حجاب پیدا کرے وہ ہمارے اعمال اور کردار سے وجود پائی ہوئی انانیت ہے۔
” میں چاہتا ہوں” ہے کہ جو ہمیں ” خدا چاہتا ہے” کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا۔ہم ہمیشہ اپنے آپ کو مد نظر رکھتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ” میں” پیسے کماتاہوں۔ "میں” کام کرتا ہوں۔ میں روزی کماتا ہوں۔ میں درس پڑھتا ہوں۔۔۔ اگر عملی طور پر "میں” کو اپنی رفتار سے حذف کر دینے میں کامیاب ہو جائیں تو گویا ہم نے اپنے ارادہ کو خدا کے ارادے کا تابع بنایا ہے۔ لیکن جب ” میں” یہ کہے کہ وہ کام کریں اور ہم اس کی مخالفت کریں اور کہیں خدا اس کام کی اجازت نہیں دیتا۔ اس صورت میں ہم توحید افعالی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
اگر ” میں” ماہ رمضان میں کہے کہ کھانا کھایا جائے اوراس کے جواب میں ہم کہیں کہ جائز نہیں ہے اس لیے کہ خدا نہیں چاہتا۔ یہاں پر ہم نے "میں” اور نفس کو پاﺅں تلے دبا دیا ہے۔ اور اسے روح و جان پر حکومت کرنے سے درکنار کیا ہے۔ اگر ” میں ” کہے کہ نامحرم کی طرف نگاہ کرنی ہے اور ہم اس کے راستے میں رکاوٹ بنیں کہ اللہ اس کام کی اجازت نہیں دیتا اگر ہر موڑ پر ایسا کرتے رہیں تو گویا ہم نے انانیت کے بت کو توڑ دیا ہے اور مقام توحید تک پہنچنے کے راستے کو صاف کر دیا ہے۔
البتہ توجہ رہنی چاہیے کہ یہ ارادہ اس ارادہ کے علاوہ ہے جسے قوی کرنا چاہیے اور اپنے اوپر حاکم بنانا چاہیے۔ اس ارادہ کی تقویت ذاتی ارادہ کو ضعیف بنانے سے حاصل ہو گی۔وہ ارادہ جسے ضعیف بنایا جائے اور نابود کیا جائے ارادہ شیطانی اور نفسانی ہے۔ اور وہ ارادہ، جسے قوی کرناچاہیے ارادہ الٰہی اور ربانی ہے کہ جو اس ذات حق کے ارادہ کے سایہ میں وجود پاتا ہے اس ارادہ الٰہی کے وجود انسان میں ظاہر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ارادہ حیوانی اور شیطانی کو ختم کیا جائے۔
اگر انسان اپنے حیوانی ارادوں اور مفسد افکار کو قابو میں رکھنے پر قادر ہو جائے اور اپنی لگام کو ان کے اختیار میں نہ دے کہ وہ جدھر جائیں اسے کھینچ لے جائیں تو اس وقت نفس انسانی کی واقعی قوتیں اور صلاحیتیں ظاہر ہوں گی۔ مثال کے طور پر اگر انسان اپنی آنکھ پر کنٹرول کرے اور تمام ناجائز چیزوں کو دیکھنے سے محفوظ رکھے اس کے عجیب آثار سامنے آئیں گے۔ ہمارے بہت سارے بزرگوں نے اس چیز کا تجربہ کیا ہے اور نقل کیا ہے کہ اس کا ایک اثر یہ ہے کہ انسان سچے خواب دیکھتا ہے اس کے ذریعے حقائق کو جان لیتاہے اور آئندہ پیش آنے والے حوادث کی پیشن گوئی کرسکتا ہے اور اس کا دوسرا اثر یہ ہے کہ دوسروں کے خوابوں کی تعبیر بیان کر سکتا ہے۔ کچھ افراد نے خود مجھ سے کہا کہ ہم ان حادثات کے جو کل اتفاق پائیں گے پہلے سے مشاہدہ کر لیتے ہیں۔ ہم نے متعدد مقامات پر اللہ کے صالح بندوں کی پیشن گوئیوں کی صداقت کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ آثار اس دنیا سے متعلق ہیں۔ اخروی آثار بھی اپنی جگہ پر محفوظ ہیں کہ جو دنیوی آثار سے بہت بالاتر ہیں۔
ہر صورت میں، اپنے آپ پر کنٹرول کرنا، لوگوں کے اموال کی طرف ہاتھ نہ بڑھانا، حرام نہ کھانا، آنکھ،کان، زبان کی حفاظت کرنا۔۔۔ قرب الی اللہ اور توحید افعالی کے مرحلہ تک پہنچنے کا سبب بنتا ہے۔ جتنا انسان اپنے ارادہ کو اس کی راہ میں کچلے گا اور اس کے ارادہ کے تابع رہے گا دوسرے الفاظ میں ، اپنے نفس کو کچلے گا اسے پاو¿ں کے نیچے دبا کر رکھے گا توحید افعالی کے نزدیک ہوتا چلا جائے گا۔ اگر انسان اپنے تمام افعال میں اللہ کے ارادہ کو حاکم رکھے گاتو اس کی چشم بصیرت کھل جائے گی اس کے دل کی آنکھیں بینا ہو جائیں گی اور انسان دنیا کے تمام امور میں قدرت الٰہی کا مشاہدہ کرے گا۔
اس نکتہ کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ توحید افعالی انسان کے اختیار کے ساتھ یا دوسرے اسباب و عوامل کےساتھ منافات نہیں رکھتی۔عارف توحید افعالی کی منزل پر خدا کی قدرت کو تمام کاموں میں ملاحظہ کرتا ہے بغیر ا س کے کہ ان کے اسباب سے قطع نظر کرے یا جبر کا باعث بنے یا انسان کا اختیار سلب کرے۔ یہ چیز عقلی اور فلسفی اعتبار سے بھی ممکن اور قابل اثبات ہے۔کہ جس کے لاتحصی اجزاءاور اعضاءکے اندر اتحاد، یکسوئی اور ایک نظام حاکم نظر آتا ہے۔ جس کی ہر چیز بہترین اور مناسب جگہ پر قرار دی گئی ہے ایک عارف اس لامحدود اور بے نظیر نقاشی سے عجیب خوشی اور لذت کا احساس کرتاہے کہ جس کے سامنے دین کی تمام مادی لذتیں ہیچ و پوچ نظر آتی ہیں۔
وہ لوگ جن کی روح لطیف اور پاکیزہ ہوتی ہے طبیعت کی خوبصورتی کو دیکھ کر ایسی لذت کا احساس کرتے ہیں کہ چند لمحوں کے لیے دوسری تمام چیزوں کو بھول جاتے ہیں۔ یہ افراد جب مثال کے طور پر کسی نقاش کو دیکھتے ہیں یا کوئی دلربا آواز کو سنتے ہیں یا بلبل کی خوبصورت آواز سنتے ہیں اس طریقے سے وجد میں آجاتے ہیں کہ گویا کل جہان کو بھول چکے ہیں۔اب ذرا سوچیے، اگر کوئی ایسا شخص جس کی روح اتنی لطیف اور پاکیزہ ہو اپنے محبوب اور معشوق کے آثار اور نشانیوں کو دیکھے اس کی کیسی حالت ہوگی وہ شخص جس نے ہفتوں اور مہینوں اپنے محبوب اور معشوق کی تلاش میں صرف کر دئے ہوں اگر اس کا خط یا اس کی تصویر یا اس کی کوئی علامت اسے ملے تو کتنا لذت کا احساس کرے گا۔ کیا اس لذت کا مثلاًکھانے پینے یا سونے کی لذت کے ساتھ مقایسہ کیا جا سکتا ہے عارف واقعی اور سالک الی اللہ کہ جس کی نظر میں دنیا کی تمام رنگینیاں اس کے محبوب کی نشانیاں ہیں ان کا مشاہدہ کرنے سے ایسی لذت حاصل کرتا ہے اوراس میں مست ہوتا ہے کہ گویا اس کے بدن سے روح نکل چکی ہے۔
”اگر وہ موت نہ ہوتی جو اللہ نے ان کے لیے مقرر کی ہے تو ان کی روحیں ان کے بدنوں میں نہ ٹھہرتی۔“
بہر حال اگر کوئی اس مقام تک پہنچا ہے اور سیر و سلوک کا ایک مرحلہ گزارا ہے تو اس نے صرف ابھی توحید افعالی کے مقام کو حاصل کیا ہے کہ عالم وجود کے اندر تنہا کا رساز خدا وند عالم ہے اور بس۔ راہ حق کا سالک اگر چہ تمام افعال اور دنیا کی تمام حرکات و سکنات کو در حقیقت خدا کی طرف منسوب کرتاہے۔ لیکن ابھی علم ، قدرت ، خوبصورتی، شجاعت، ذکاوت اور دوسرے تمام صفات و کمالات کو خود موجودات کے اندر دیکھتا ہے اور انہیں خود موجودات کی طرف نسبت دیتا ہے۔ اس اعتبار سے توحید افعالی کے علاوہ دوسرا مرحلہ توحید صفاتی کا ہے کہ جسے بھی طے کرنا پڑے گا۔ سالک کو چاہیے کہ اس کے علاوہ کہ وہ تمام افعال کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہے تمام صفات و کمالات کو بھی خدا کی طرف سے سمجھے۔ اور کسی صفت کو کسی موجود کے لیے مستقل اور خدا سے الگ محسوس نہ کرے۔ وہ اس مرحلہ میں کسی عالم کے لیے مستقل علم اور کسی طاقتور اور پہلوان کے لیے مستقل طاقت کا قائل نہیں ہو تا۔ بلکہ تمام علوم اور قدرتوں کو اللہ کے علم اور قدرت کا سایہ سمجھتا ہے اور ہر خوبصورتی اور زیبائی اور حسن و جمال کو صرف خدا وند عالم کی طرف سے قرار دیتاہے اور ہر صفت کے ساتھ اس کے واقعی اور حقیقی مالک کو جو ذات الٰہی ہے کا مشاہدہ کرتا ہے۔ ایک سالک کے اندر ایسی بصیرت پیدا ہو جائے تووہ توحید صفاتی کے مقام پر فائز ہے۔
صاحبان اختیار کی تدبیر کے اوپر ایک ایسی ذات کی تدبیر حاکم ہے جو کل کائنات کے امور حتیٰ ایک ایٹم کے اندر الکٹرونوں کی حرکت سے لے کر کرات عالم اور کہکشانوں کے ایک سسٹم کے تحت حرکت کی تدبیر کر رہی ہے عام انسان بھی اور وہ لوگ جو عرفانی مقامات سے محروم ہیں وہ بھی کبھی کبھی اس تدبیر کا مشاہدہ کرتے ہیں شاید ہمارے لیے کئی بار یہ اتفاق ہوا ہو کہ کسی کام کے لیے پروگرام طے کیا ہو،تمام امکانات فراہم ہوں لیکن کوئی ایسا اتفاق وجود میں آیا ہو کہ اس سے بہتر نتائج حاصل ہو گئے ہوں جو ہم چاہتے تھے۔ جو لوگ ۸ سال (ایران عراق)کی تحمیل کردہ جنگ میں شریک تھے اس طرح کے امور کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں۔
جو شخص توحیدا فعالی کے مقام پر قدم رکھتا ہے اس کے لیے ایک ایسی حالت وجود پاتی ہے اور وہ کائنات کو ایک ایسے مجسمہ کی طرح دیکھتاہے کہ جس کے تمام اعضاء ایک دوسرے سے مربوط اور جوڑے ہوئے ہوں۔ عارف حقیقی کی نگاہ میں ہر چیز اس عالم دنیا کے اندر دقیقاً اسی جگہ پر ہے کہ جہاں اسے ہونا چاہیے۔ اور ہر شے سے ایک مہمل سی حرکت بھی اگر ظاہر ہوتی ہے ایٹم کے اندر الکٹرونوں سے لے کر بڑے بڑے سیاروں کی اپنے مدار پر حرکت اور بعض اوقات ان کا آپس میں ٹکراو¿، یہ تمام چیزیں ایک ارادہ اورنظم و ترتیب کے سائے میں انجام پاتی ہیں۔ عارف کی نظرمیں یہ تمام چیزیں ایک ڈرائنگ بورڈ پربنی ہوئی ایک تصویر کے مختلف حصے اور پہلو کے مانند ہیں کہ جسے ایک مصور نے اپنی پوری محنت اور پورے شوق سے ہر ممکن زیبائی اور خوبصورتی کے ساتھ بنایا ہو۔ توحید افعالی کے مقام پر پہنچنے والا شخص یہ واضح طورپر دیکھتا ہے کہ اس تصور کشی میں رنگوں کا انتخاب اور اعضاءکی بناوٹ اور سجاوٹ نہایت ظرافت اور باریکی کے ساتھ انجام پائی ہے۔ اس مجموعہ کائنات کےاندر جبر نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ہر موجود اپنے اختیار سے اپنے دائرہ اختیار کے اندر حرکت کرتا ہے اس حال میں کہ ایک برترارادہ نے ان تمام افعال اور حرکات و سکنات کو آپس میں جوڑ رکھا ہے اور سب کو ایک نظام کے تحت جمع کر رکھا ہے۔
قرآن کریم اور روایات کے اندر وہ تمام تعلیمات جو قضا و قدر اور مشیت ایزدی کے بارے میں بیان ہوئی ہیں سب کی سب صرف اس لیے ہیں کہ انسان ان کی مدد سے مقام توحید افعالی کی طرف بڑھے اور اس کے اندر یہ بصیرت پیداہو کہ کوئی شے حتی سوئی کی نوک کے برابر ، خدا کے ارادہ اور تدبیر سے باہر نہیں ہے۔ بغیر اس کے کہ جبر لازم آئے۔
ان مسائل کا بیان کرنا یقینا مشکل ہے لیکن ان کا محسوس کرنا اور مشاہدہ کرنا اتنا لذت بخش ہے کہ جتنا ایک ڈرائنگ بورڈ کی خوبصورتی کو دیکھ کو آدمی لذت کا احساس کرتا ہے۔ ایک ڈرائنگ بورڈ کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو محدود ہے ایک محدود فکر رکھنے والے مصور نے اسے تیار کیا ہے۔ اس کے تمام ابعاد ایک محدود حصے کے اندر ترسیم ہوئے ہیں لیکن وہ انسان جو مقام توحید کی منزل پر ہے وہ ان نقش و نگار کو اس عالم بے کراں اور لامحدودکے اندر مشاہدہ کرتا ہے۔
لیکن توحید افعالی اور توحید صفاتی کے علاوہ ابھی ایک مرحلہ اور باقی ہے جسے سالک الی اللہ کو طے کرنا ہے اور وہ مرحلہ توحید ذاتی کا ہے اس مرحلہ میں انسان نہ صرف تمام افعال اور صفات کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہے بلکہ تمام موجودات کواس نور مطلق کی کرنیں اور اس کے جلوے سمجھتا ہے۔
بعض بزرگ اس موضوع کو تھوڑا قابل فہم بنانے کے لیے خدا کو دریا اور موجودات کو اس کی نمی اور رطوبت سے تشبیہ دیتے ہیں اور بعض اسے دریا اور انہیں اس کی موجیں یا سایہ اور صاحب سایہ کےساتھ تشبیہ دیتے ہیں لیکن یہ تمام تشبیہات معقول کی تشبیہ محسوس کے ساتھ ہے کہ جو اس حقیقت سے پردہ نہیں ہٹا سکتی۔ موج ، رطوبت اور اس طرح کی دوسری چیزیں ایک جسم کے حالات ہیں ایک جوہر کے لیے اعراض ہیں لہذا اس طریقے سے خالق اور مخلوق کے رابطے کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جو بھی اس سلسلہ میں کہا جا ئے وہ صرف تشبیہ، استعارہ اور مجازگوئی کی حد تک محدود ہو گا۔ کوئی بھی عارف کسی بھی زبان سے اس رابطے کو بیان کرنے پر قادر نہیں ہے۔ نہ صرف عارف، بلکہ کوئی پیغمبر یا کوئی امام بھی اس چیز کو الفاظ اور کلمات کے سانچے میں نہیں ڈھال سکتا۔ اس لیے کہ یہ حقیقت الفاظ اور جملات کی حد سے ماوراءہے۔ یہ چیز لائق حس ہے۔ جب تک اسے محسوس نہ کیا جائے اس حقیقت کا ادراک نہیں ہو سکتا۔
یہیں پر یعنی اسی مرحلہ پر بہت سارے لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں اور جب موجودات کا ربط اور تعلق دیکھتے ہیں تو گمان کرلیتے ہیں کہ یہ بالکل وجود نہیں رکھتے۔ اسی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ خدا کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے سب کچھ وہی ہے بعض اس سے گھاڑی تعبیر استعمال کرتے ہیں جو بظاہر خلاف ادب اور شان حق میں جسارت ہے۔ مثال کے طور بعض عرفاءسے نقل ہوا ہے کہ کہتے تھے: لیس فی جبتی الااللہ۔میرے لباس میں خدا کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔ البتہ ہمارے پاس ان افراد کے سلسلے میں کوئی دقیق معلومات نہیں ہیں۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ وہ ان حقائق تک پہنچے تھے یا نہیں۔ لیکن ان حقائق کے بیان میں کچھ ناقابل قبول اصطلاحات کا استعمال کیا گیاہے کہ جو یہ بتارہا ہے کہ انہیں حقیقت کو پانے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔ بہر صورت ، اگر ہم چاہیں اس راہ میں کسی سے راہنمائی حاصل کریں تو وہ صرف معصومین ؑحضرات ہیں کہ جن کی عصمت ثابت او ر مسلم ہے کہ جن کے مقامات کے سلسلے میں اور ان کے حقائق کو پانے کے سلسلے میں ان کی تعلیمات اور احادیث میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں پا یا جاتا۔ ایکدم واضح ہے کہ جو شخص واقعاً حقیقت کی تلاش میں ہے وہ معصوم ؑراہنماو¿ں کے علاوہ کسی دوسرے کی تلاش میں نہیں جائے گا جو مشکوک الحال ہیں۔
بہر حال ، اس بیان کی بنا پر مجموعی طور پر سیر و سلوک کے مراحل کو تین مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے کہ جو توحید افعالی سے آغاز اور توحید ذاتی پر ختم ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اشارہ کیا گیا ان تین مراحل کو طے کرنے کا مقصد اور ان کی روح ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے ” بندہ بننا” انسان کو کوشش کرنا چاہیے کہ اپنی ہستی اور دوسرے تمام موجودات کی ہستی کو اس کے اصلی مالک یعنی خدا وند عالم کی طرف لوٹائے اور کسی چیز کو بھی اپنا یا دوسری مخلوقات میں سے کسی کا نہ سمجھے۔ البتہ توجہ رہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنے برے کاموں کو دوسروں کی گردن پر ڈال دیں اوراپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیں۔اصولی طور پر یہ جو انسان توحید افعالی کے مرحلہ تک پہنچ چکا ہے وہ برے کام انجام دے ہی نہیں سکتا۔ جو اس مقام پر فائز ہو چکا ہے اگر خدا نہ کرے اس سے کوئی برا کام سرزد ہو جاتا ہے تو چونکہ اس کا مقام بھی بالاتر ہے اسے سزا بھی سخت تر ملے گی۔ اور اسے آتش جہنم کے شعلوں پر لٹکاد یا جائے گا۔
یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ جو شخص عرفان، سیر و سلوک اور توحید افعالی کے مقام پر فائز ہونے کا دم بھرتا ہے واقعاً اس مقام پر پہنچ چکا ہے۔ ممکن ہے کسی نے اس مقام کے الفاظ اور اصطلاحات کو یاد کر لیا ہواور ان کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتا ہو۔ یہ ایسے مقام ہیں جو اتنی آسانی سے ہر کسی کو مل جائیں؟! جتنی چیز قیمتی ہوتی ہے اتنا اس کو پانا مشکل اور دشوار ہوتا ہے۔ ماﺅنٹ ایورسٹ کی چوٹی کو سر کرنا ممکن ہے کسی کے لیے بہت مسرت اور دلچسپی کا باعث ہولیکن وہاں تک پہنچنے کے لیے کتنی زحمتوں، مصیبتوں اور رنج و آلام کو برداشت کرنا پڑے گا۔ معنوی مسائل میں بھی یہی حال ہے معنوی مقامات کو حاصل کرنے کے لیے خون جگر پینا پڑتا ہے زحمتیں اٹھانا پڑتی ہیں جو شخص اونچے مقام کا طالب ہو تا ہے اسی مقدار میں اس کے حصول کے لیے زحمت کرتا ہے۔ توحید افعالی، توحید صفاتی اور توحید ذاتی سب بلند اور عالی ترین معنوی مقامات ہیں۔ ان بلند چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے سالوں اپنے نفس کی مراقبت اور بہت ساری چیزوں سے پرہیز اور بہت ساری چیزوں کو انجام دینا پڑتا ہے۔


































