
اسلام آباد: ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں گرجا گھروں اور مسیحی آبادی پر حملہ اقلیتی برادری کے خلاف بڑی نفرت انگیز مہم کا حصہ تھا۔ انسانی حقوق کے ادارے کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے سانحہ جڑانوالہ پر رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق اقلیتی برادری پر حملے کو مکمل طور پر غیر منظم یا اچانک نہیں سمجھا جا سکتا۔ بلاشبہ یہ حملہ مقامی عیسائیوں کے خلاف ایک بڑی نفرت انگیز مہم کا حصہ ہے۔ رپورٹ میں پولیس کا کردار اور صورتحال کو مؤثر طریقے سے کم کرنے اور کنٹرول کرنے کی اس کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقامی مسیحی برادری کے خلاف وحشیانہ حملوں میں 24 گرجا گھروں اور کئی درجن چھوٹے چیپلوں کے ساتھ ساتھ کئی گھروں کو جلایا گیا اور لوٹ مار کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ حملے صرف جڑانوالہ تک محدود نہیں تھے بلکہ اس نے آس پاس کے دیہات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔


































