
پشاور : پشاور کی پولیس لائن کی مسجد میں خودکش حملے کے مزید کئی زخمی دم توڑ گئے جس سے شہدا کی تعداد 95 تک جاپہنچی ہے۔ معمولی زخمیوں کو طبی امداد دیکر اسپتالوں سے رخصت کردیا گیا جبکہ اب بھی 52 شدید زخمی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ اور اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو کارروائیاں رات میں بھی جاری رہیں۔ اور کئی لاشوں اور ایک زخمی کو ملبے سے نکالا گیا۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق مسجد کے ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، بھاری مشینری سے ریسکیو آپریشن جاری ہے، پاک فوج کے ریسکیو دستے بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔سی سی پی او پشاور محمد اعجاز خان کا کہنا ہے کہ مبینہ خودکش حملہ آور کا سر بھی مل گیا ہے، ریسکیو آپریشن کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ دھماکا کس نوعیت کا تھا۔ آئی جی خیبر پختونخوا معظم جاہ انصاری کا کہنا ہے کہ پشاور پولیس لائن میں 2 ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور 8 مختلف محکمے ہیں، عوام اور سائلین کی بڑی تعداد کا روزانہ آنا جانا ہوتا ہے۔ پولیس لائن میں فیملی کوارٹرز ہیں، یہاں تعمیراتی کام بھی چل رہا تھا، مزدور روزانہ آتے جاتے تھے، سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تحقیقات کے بعد حتمی رائے قائم کی جائے گی۔


































