
واشنگٹن : امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے انکشاف کیا ہےکہ عرب امارات نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران پر درجنوں فضائی حملے کیے۔ یہ حملے جنگ بندی کے اعلان کے اگلے دن تک جاری رہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات فوجی مہم میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایک فعال فریق کے طور پر شریک رہا۔ اور اس نے جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہی فضائی کارروائیاں شروع کردی تھیں۔رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ قریبی رابطہ اور انٹیلی جنس تعاون شامل تھا۔ نشانہ بنائے گئے مقامات میں آبنائے ہرمز کے قریب قشم اور ابو موسیٰ جزائر، بندر عباس، لاوان آئل ریفائنری اور عسلویہ پیٹروثکیمیکل کمپلیکس شامل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض حملوں میں ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ عسلویہ کمپلیکس پر ایک حملے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں واشنگٹن نے اسرائیل پر توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے زور دیا۔


































