
پیرس: سعودی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ فرانس کے 24 ٹی وی کو انٹرویو میں ترکی الفیصل نے کہاکہ سعودی ایران معاہدہ یمن سے لے کر لبنان اور شام تک خطے میں ہونے والی پیش رفت پر اثرات مرتب کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان یورپ یا امریکا ایماندار ثالث نہیں بن سکتے اور نہ ہی وہ ایسا معاہدہ کراسکتے ہیں جیسا چین نے کرایا۔ چین ہی اچھا ضامن بن سکتا ہے کیونکہ اس کے دونوں ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔اس معاہدے کا مطلب سعودی عرب کا امریکہ سے دور ہونا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ معاہدے کی تفصیلات سے واقف نہیں ہیں لیکن امید کرتے ہیں کہ یہ مشرق وسطیٰ میں مزید مثبت پیش رفت کا باعث بنے گا۔ انہوں نےکہاکہ یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے قابل قبول نہیں۔ ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات پر ترکی الفیصل نے کہا کہ ان کے ملک نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے واضح شرائط رکھی ہیں، جن میں ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا مرکز القدس ہو اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی شامل ہے۔


































