
تحریر: سید عدیل زیدی
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد سے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال قدرے مزید خراب ہوئی ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات تواتر کیساتھ پیش آرہے ہیں۔ اگر کے پی کے میں ہونے والے دہشتگردانہ واقعات کی بات کی جائے تو اس میں تحریک طالبان پاکستان اور اس کیساتھ ساتھ افغان دہشتگردوں کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت منظرعام پر آئے ہیں، اگر یوں کہا جائے کہ اس دہشتگردی میں نوے فیصد سے زائد افغان سرزمین یا پھر افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ حکومت پاکستان کے مطابق پشاور پولیس لائنز حملے سمیت متعدد سانحات میں افغان شہری اور افغان سرزمین براہ راست پاکستان کیخلاف استعمال ہوئی ہے۔ اس حوالے سے اسلام آباد نے تسلسل کیساتھ یہ معاملات طالبان کی افغان حکومت کیساتھ ناصرف متعلقہ فورمز پر بھرپور طریقہ سے اٹھائے بلکہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ پاکستانی حکام نے افغان ذمہ دارانہ کو تنبیہ بھی کی کہ وہ سرحد پار ٹی ٹی پی کو کنٹرول کریں اور ہمارے کیخلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے سے روکیں۔
اس سب کے باوجود صورتحال بدستور جوں کی توں ہے اور اب اس امر کے ثبوت بھی منظر عام پر آچکے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردانہ کارروائیوں میں امریکی اسلحہ استعمال ہورہا ہے۔ ذرائع کے مطابق 31 دسمبر کو خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاک افغان سرحد پار کرنے والے ایک لڑائی میں 3 دہشتگردوں کو پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے ہلاک کیا۔ اِن دہشتگردوں سے M4 Carbine (امریکی ساخت) اور دیگر اسلحہ بر آمد ہوا۔ یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو افغانستان میں امریکا کا چھوڑا ہوا اسلحہ دستیاب ہے۔ ٹی ٹی پی کو ہتھیاروں کی فراہمی نے خطے کی سلامتی کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے، بالخصوص پاکستان میں دہشتگردی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ علاوہ ازیں 29 دسمبر کو میر علی میں دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا، جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گرد کمانڈر راہزیب کھورے سمیت پانچ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
ان دہشتگردوں سے بھی امریکی اسلحہ جس میں M4 Carbine اور Ak-47 اور گولا بارود بھی برآمد کیا گیا۔ اس سے پہلے بھی متعدد بار پاکستان میں دہشتگردی کے حملوں میں غیر ملکی ہتھیار استعمال کیے گئے۔ اس کے علاوہ بلوچ لبریشن آرمی نے بھی انہی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے فروری 2022ء میں نوشکی اور پنجگور اضلاع میں ایف سی کیمپوں پر حملے کیے تھے۔ 12 جولائی 2023ء کو ژوب گیریژن پر ہونے والے حملے میں بھی ٹی ٹی پی کی جانب سے امریکی اسلحے کا استعمال کیا گیا تھا۔ 6 ستمبر 2023ء کو جدید ترین امریکی ہتھیاروں سے لیس ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے چترال میں دو فوجی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا۔ 4 نومبر کو میانوالی ائیر بیس حملے میں دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ غیر ملکی ساخت کا تھا، جس میں RPG-7، AK-74، M-4 اور M-16/A4 بھی شامل ہیں۔ 12 دسمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں ہونے والے دہشتگردی کے حملے میں بھی دہشتگردوں کی جانب سے نائٹ ویژن گوگلز اور امریکی رائفلز کا استعمال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 15 دسمبر کو ٹانک میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعہ میں دہشتگروں کے پاس جدید امریکی اسلحہ پایا گیا، اس حملے میں 3 پولیس اہلکار شہید اور 5 دہشتگرد جہنم رسید ہوئے تھے، ان دہشتگردوں نے M16/A2, HE Grenades, AK-47 استعمال کیے۔ 13 دسمبر کو کسٹمز اور سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے پاکستان آنیوالی گاڑی سے پیاز کی بوریوں سے بھی جدید امریکی ہتھیار برآمد کئے، اسلحے میں جدید امریکی ساختہ ایم فور، امریکی رائفل، گرنیڈ شامل تھے۔ افغانستان سے جدید امریکی اسلحہ کی پاکستان اسمگلنگ اور ٹی ٹی پی کا سکیورٹی فورسز اور پاکستانی عوام کے خلاف امریکی اسلحہ کا استعمال افغان عبوری حکومت کا اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے کے دعوؤں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
امریکہ نے افغان فوج کو کل 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے تھے، جس میں 300,000 انخلا کے وقت باقی رہ گئے تھے۔ اس بناء پر خطے میں گزشتہ دو سالوں کے دوران دہشت گردی میں وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے 2005ء سے اگست 2021ء کے درمیان افغان قومی دفاعی اور سیکیورٹی فورسز کو 18.6 ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا، امریکی انخلاء کے بعد ان ہتھیاروں نے ٹی ٹی پی کو سرحد پار دہشت گرد حملوں میں مدد دی۔ یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان ریجیم نہ صرف ٹی ٹی پی کو مسلح کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ راستہ بھی فراہم کر رہی ہے۔ اس حوالے سے اسلام آباد کے تحفظات، خدشات اور احتجاج اپنی جگہ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کا گڑھ اس وقت افغانستان اور اس دہشتگردی میں استعمال ہونے والا امریکی اسلحہ پاکستان کو نقصان پہنچانے میں پیش پیش ہے تو غلط نہ ہوگا۔


































