
دمشق: شام اور ترکیہ کے درمیان تعلقات میں بہتری نے شامی اپوزیشن اور مسلح گروپوں کو پریشان کردیا۔ترکی اور شام کے وزرائے دفاع نے 28 دسمبر کو ماسکو میں ملاقات کی تھی جس میں شام کی سرحد پر واقع کرد جنگجوؤں کے موضوعات ایجنڈے میں شامل تھے۔ اس ملاقات سے شامی اپوزیشن کے اندر بے چینی پائی جاتی ہے۔ اسد حکومت کیخلاف برسرپیکار حیات تحریر الشام کے سربراہ نے کہا کہ شام، روس اور ترکی کے درمیان مذاکرات ایک خطرناک انحراف تھے۔ ایک اور مسلح گروپ احرار الشام نے کہا کہ وہ اپنے ترک اتحادی کی صورت حال کو سمجھتے ہیں تاہم یقین ہے کہ وہ شامی حکومت کے ساتھ مفاہمت کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ ترک وزیر دفاع نے اپوزیشن کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ترکی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے ان کے لیے مشکلات پیدا ہوں۔


































