
NEW YORK, NEW YORK – SEPTEMBER 25: David Miliband attends Sir Richard Branson And SiriusXM’s John Fugelsang Special Broadcast Of "Learning With Richard Branson” With Guest David Miliband at SiriusXM Studios on September 25, 2019 in New York City. Robin Marchant/Getty Images for SiriusXM/AFP (Photo by Robin Marchant / GETTY IMAGES NORTH AMERICA / AFP)
لندن : برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ عراق جنگ کی حمایت کرنا ان کے سیاسی کیریئر کا سب سے بڑا پچھتاوا ہے۔ ویلز میں ایک لٹریچر فیسٹول سے خطاب میں ڈیوڈ ملی بینڈ کا کہنا تھا کہ عراق جنگ کا نتیجہ مغرب کی اخلاقی دیانت اور بین الاقوامی امن اور انصاف قائم کرنے کے دعوؤں کے حقیقی نقصان کی صورت میں نکلا۔ عراق جنگ نے مغرب میں دوغلے پن کے الزامات پر روس مخالف موقف کو بھی نقصان پہنچایا میں نے جنگ کے حق میں ووٹ دیا۔ میں نے حکومت کے موقف کی تائید کی اور میرے ذہن میں کوئی اشکال نہیں کہ یہ فیصلہ کتنا غلط تھا۔ انہوں نے عراق کی جنگ کو تزویراتی غلطی قرار دیا۔ ڈیوڈ ملی بینڈ کا کہنا تھا کہ عراق کی جنگ میں جو کچھ ہوا اس کے بعد یوکرین کے لیے جواز نہیں، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ مغرب کا دوغلاپن بہت ہی سنجیدہ نکتہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین نے مغرب کو متحد کیا لیکن اس نے مغرب کے علاوہ بڑی حد تک دنیا کو تقسیم کر دیا۔ چالیس سے پچاس مملک نے روس کی مذمت سے انکار کیا۔ ان کے انکار کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ روسی حملے کو سپورٹ کر رہے تھے۔ بلکہ ان کا احساس تھا کہ مغرب دوغلے پن کا شکار ہے اور گذشتہ 30 سالوں کے دوران عالمی مسائل سے نمٹنے میں کمزوری کا شکار رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مغرب کا کردار عالمی سیاست میں کیا ہو تو ہمیں افغانستان اور فلسطین کو بہت زیادہ سنجیدہ لینا ہوگا۔


































