
واشنگٹن: امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے ایک بار پھر بھارت کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کردی کمیشن نے مسلسل تیسرے سال بھارت کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے. ٹرمپ اور بائیڈن انتظامیہ دو مرتبہ بھارت کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے سے انکار کر چکی ہے کمیشن کی رپورٹ میں محکمہ خارجہ سے کہاگیا ہےکہ بھارت مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے اسے فوری طور پر تشویشناک ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے، کمیشن کی سالانہ رپورٹ کےمطابق
بھارت میں مذہبی آزادی کے حالات مزید خراب ہورہے ہیں مودی حکومت ہندو قوم پرست ایجنڈے کو فروغ دے رہی ہے، اسکی پالیسیاں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، دلتوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں پر اثر انداز ہورہی ہیں، ہندو ریاستی نظریے مذہبی اقلیتوں کیخلاف ہیں، رپورٹ کے مطابق مودی سرکار نے انسانی حقوق کے حامیوں، صحافیوں کو گرفتار کیا، مساجد پر حملہ کے بارے میں ٹویٹ کرنے والوں پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا، بغاوت کے قانون کا مسلسل استعمال تشویشناک ہے،
بغاوت کے قانون کا سب سے زیادہ استعامل جموں و کشمیر میں ہورہا ہے،حکومت نے گزشتہ سال بغاوت کے قانون کے تحت مذہبی اقلیتوں کو ہراساں کیا، اس قانون کو ہر تنقیدی آواز کیخلاف اور خوف کی فضا پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا گیا، جن ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل رکھنے کی سفارش کی گئی ہے ان میں
ہندوستان سمیت افغانستان، برما، چین، اریٹیریا، ایران، نائیجیریا، شمالی کوریا، پاکستان، روس، سعودی عرب، شام، تاجکستان، ترکمانستان، اور ویتنام شامل ہیں.


































