
اسلام آباد: شیعہ علما کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ ساجد نقوی کے ترجمان زاہد علی آخونزادہ نے تنظیم کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل اور معروف عالم دین سید ناظر عباس تقوی کو وفاقی دارالحکومت میں سرعام قتل کی دھمکیاں دینے کی مذمت کی ہے اور مرتکب افراد کیخلاف فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں ترجمان زاہد علی آخونزادہ نے کہا کہ ملک میں ایک بار پھر فرقہ پرستی و انتہا پسندی کو عاقبت نااندیش عناصر فروغ دے کر وطن عزیز کی پرامن اتحاد امت کی فضا کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، جس کی جانب وقتاً فوقتاً توجہ دلائی جاتی رہی ہے، لیکن اس ضمن میں حکومت کے روایتی انداز میں کیے جانیوالے اقدامات ناکافی اور بے اثر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک عزیز میں یہی انتہا پسندی سینکڑوں پاکستانیوں کی جان لے چکی ہے، جسے دوبارہ ملک پر مسلط کرنے کی کوشش کرنیوالے کسی بھی طور ملک و دین کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بدولت ہر مکتب فکر میں موجود فرقہ پرستوں اور انتہا پسندوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے، اسی لیے ایک بار پھر قتل کی دھمکیاں دے کر بعض عناصر فضا کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جس کی کوئی محب وطن کبھی اجازت نہیں دے سکتا۔ انہوں نے حکومت اور انتظامیہ کی اس ضمن میں ابھی تک کی خاموش پالیسی اور روایتی اقدامات کو معنی خیز اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سرعام دھمکیاں دینے والوں کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔


































