
تہران: شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی دو روزہ عوامی الوداعی اور نمازِ جنازہ کی تقریبات کی تفصیلات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان تقریبات میں ایک کروڑ بیس لاکھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ یہ اعلان پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے تہران کمانڈ کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل حسن حسن زادہ نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ وہ ان تقریبات کے انتظامی ہیڈکوارٹر کے سربراہ بھی ہیں۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اٹھائیس فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کی بلااشتعال جارحیت کے دوران شہید ہوئے تھے۔
بریگیڈیئر جنرل حسن حسن زادہ کے مطابق چار اور پانچ جولائی کو الوداعی تقریبات، نمازِ جنازہ اور تدفین کے جلوس کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تہران میں دو بڑی تقریبات ہوں گی۔ پہلی تقریب امام خمینی عظیم مصلیٰ میں عوامی الوداع اور نمازِ جنازہ کی ہوگی، جبکہ دوسری تقریب جنازے کے جلوس پر مشتمل ہوگی، جو الگ مقام پر منعقد کی جائے گی۔ چار جولائی کو صبح چھ بجے مصلیٰ کے دروازے عوام کے لیے کھولے جائیں گے اور اس سے پہلے کسی کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پانچ جولائی کی صبح نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔ جبکہ الوداعی تقریب چار جولائی کو رات آٹھ بجے تک جاری رہے گی۔ حسن حسن زادہ نے بتایا کہ متوقع غیرمعمولی ہجوم کے باعث ایک ہی سڑک پر جلوس نکالنے کے بجائے وسیع راستے کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ شرکا کی آمدورفت محفوظ انداز میں یقینی بنائی جا سکے۔ تقریب کے مقام کے اطراف میں گاڑیوں کی آمدورفت محدود رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہید قائدِ انقلاب کے جسدِ مبارک اور اہلِ خانہ کے لیے خصوصی مقام تیار کیا گیا ہے، جسے بلند جگہ پر قائم کیا گیا ہے تاکہ تمام شرکا اسے آسانی سے دیکھ سکیں۔ اڑتالیس گھنٹے جاری رہنے والی تقریبات میں بین الاقوامی شہرت یافتہ قراء، مذہبی شعراء، نوحہ خواں اور مختلف مذہبی و ثقافتی شخصیات بھی شرکت کریں گی۔ حکام کے مطابق تمام سرکاری اداروں، بلدیاتی محکموں، طبی عملے، فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو انتظامات کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔ تہران میٹرو اور بسوں کا مکمل نظام عوام کی آمدورفت کے لیے استعمال کیا جائے گا، جبکہ پینے کے پانی، کھانے، طبی امداد، صفائی، نماز اور دیگر سہولیات کے لیے پانچ بڑے سروس مراکز قائم کیے جائیں گے۔
حسن زادہ نے بتایا کہ انتظامات بارہ سے پندرہ ملین افراد کی ابتدائی پیش گوئی اور زیادہ سے زیادہ دو کروڑ افراد کی ممکنہ شرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آخری دیدار کے بعد فوری طور پر باہر نکلیں تاکہ دوسرے افراد کو بھی شرکت کا موقع مل سکے، اور ہجوم کے باعث تہران میں غیرضروری قیام سے گریز کریں۔


































