یمن پر عرب اتحاد کے حملے میں 222بچے ہلاک وزخمی ہوئے،اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا اعتراف، پھر بھی سعودی اتحاد کو بلک لسٹ سے نکال دیا
پانچ سالہ جارحیت سے یمن مکمل طور پر تباہ ہو گیا،فیصلہ شرمناک ہے ، طاقت ور عناصر کو یہ پیغام جائے گا کہ وہ بچوں کو ہلاک کر کے بچ سکتے ہیں،انسانی حقو ق تنظیمیں
نیویارک (نیوزڈیسک) اقوام متحدہ نے سعود ی عرب کے دباو¿ اور فنڈز روکنے کی دھمکی پر ایک بار پھر اس کا نام بچوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی فہرست سے نکال دیا، انسانی حقوق کی تنظیموں نے سعودیہ کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے پر اقوام متحدہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال یمن میں 2159 بچوں کے خلاف 4042 سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی تھیں، 359 بچے ہلاک اور 1447 سے زیادہ معذور ہوئے تھے، 222 بچے سعودی اور باقی دوسرے گروپوں کی کارروائی میں ہلاک اور زخمی ہوئے، اسکے باوجود انتونیو گوتریس نے کہا کہ سعودی اتحاد کو بلیک لسٹ سے نکال دیا جائے گا ، انہوں نے اس کا جواز فضائی حملوں سے ہلاکتوں اورمجروح ہونے میں کمی اور سعودی یاداشت کو قرار دیا جس میں مزید احتیاطی اور حفاظتی اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، اس پروگرام پر اگلے 12 مہینے میں نظر رکھی جائے گی اور اس میں کسی طرح کی غفلت یا خلاف ورزی پر دوبارہ اس فہرست میں شامل کر دیا جائے گا،انسانی حقوق کی تنظیموں نے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ سال سے جاری جارحیت سے یمن مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس نے بدترین انسانی بحران کو جنم دیا ہے،تازہ فیصلے سے بچوں کو اور زیادہ نقصان پہنچنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، ہیومن رائٹس واچ میں بچوں کے حقوق کے شعبے کے ڈائریکٹر جو بیکر نے سعودی اتحاد کو بلیک لسٹ سے نکالنے کوشرمناک قرار دیا،اس فیصلے سے طاقت ور عناصر کو یہ پیغام جائے گا کہ وہ بچوں کو ہلاک کر کے بچ سکتے ہیں ۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- سعودی دباو اور دھمکیاں، نام ایک بارپھر بلیک لسٹ سے…
سعودی دباو اور دھمکیاں، نام ایک بارپھر بلیک لسٹ سے خارج
-
Ilyas - جون 18, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 16
- 0 minute read


































