
ریاض : سعودی عرب نے مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک عدم جارحیت معاہدے کی تجویز پیش کردی۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب خطے میں ایران اور عرب ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی کے لیے ایک نئے سفارتی فریم ورک پر کام کر رہا ہے۔ سعودی حکام اس منصوبے کو انیس سو پچھتر کے ہیلسنکی معاہدے کی طرز پر تشکیل دے رہے ہیں، جس نے سرد جنگ کے دوران یورپ میں سرحدی تنازعات اور سیاسی کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ مجوزہ معاہدے میں علاقائی خودمختاری کے احترام، اقتصادی و سائنسی تعاون اور انسانی امور میں اشتراک جیسے نکات شامل کیے جا سکتے ہیں۔ ایک عرب سفارتکار نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ اس نوعیت کے معاہدے کا بیشتر عرب اور مسلم ممالک سمیت ایران بھی خیر مقدم کرے گا۔


































