
کیف: باخموت پر قبضے کیلئے روس کے حملوں میں انتہائی شدت اور تیزی آگئی۔ روس نے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران باخموت اور اطراف کے قصبوں پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ ایک درجن سے زیادہ مقامات پر کی گئی گولہ باری سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ یوکرائنی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 100 سے زائد حملوں کو پسپا کردیا ہے۔ دونوں ممالک کی فوجوں کے پاس گولہ بارود کی کمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں کیونکہ کئی روز سے اس کا مسلسل استعمال کیا جا رہا ہے۔ روسی ملیشیا ویگنر کے سربراہ نے کہاہے کہ اس نے باخموت پر گرفت مضبوط کر لی ہے لیکن انہیں اسلحہ مہیا نہ کیا گیا تو پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔ یوکرین نے امریکا سے کلسٹر بموں کی فراہمی کی درخواست کی ہے۔باخموت شہر پر روس کا قبضہ دونباس کے پورے خطے پر قبضے کی طرف اہم قدم ہو گا۔ یوکرین کی سیاسی و فوجی قیادت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ روسی فوج کے گھیرے میں آنے والے شہر باخموت کو ہر صورت بچایا جائے گا۔ صدر زیلنکسی نے فوجی حکام سے خطاب میں کہا کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنا دفاع مضبوط بنائیں گے۔


































