
تحریر: سید تنویر حیدر
جب حضرتِ شموٸیل نے جالوت سے مقابلے کے لیے جنابِ طالوت کو بحکمِ خدا لشکر کی کمان سپرد کی تو بنی اسراٸیل نے پیغمبرِ خدا پر یہ اعتراض کیا کہ انہوں نے ایسے شخص کو ہم پر مسلط کیا ہے، جو مالی طور پر انتہاٸی پسماندہ ہے۔ لیکن خداوند متعال نے آخرکار اس تہی دست شخص کے ہاتھوں سے ہی اس دور کے طاغوت جالوت کو شکست دی۔ گویا کامیابی کا پیمانہ مال و دولت کی فراوانی نہیں بلکہ قوت ایمانی ہے۔ آج خدا کی اس زمین پر، اپنی مٹھی میں ساری خداٸی کو بند رکھنے کا دعوٰی کرنے والا امریکہ اور اپنے دماغ میں طاقت کا گھمنڈ پالنے والا اسراٸیل، دونوں جن یمنیوں کے مقابلے میں بے بسی کی تصویر بنے ہوئے نظر آتے ہیں، وہ کون ہیں۔؟
تیل کی دولت سے مالامال عرب ریاستوں میں اگر کوٸی واحد مفلس ریاست ہے تو وہ یمن کی ریاست ہے۔ کل تک پیٹرو ڈالرز سے اپنے محلوں کی آراٸش کرنے والے شیوخ آج سنگلاخ پہاڑوں کے باسیوں کے سامنے زیر زمین اپنے لیے پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں۔ اہل یمن کے حوالے سے رسول خدا اور آٸمہء اہلبیت سے منسوب جو روایات اور احادیث کا ہم صدیوں سے مطالعہ کر رہے ہیں، آج ان کے مطالب کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ خصوصاً امام مہدی کی آمد سے قبل اہل یمن کے جس کردار کا ذکر ہم محض کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں، آج وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک جیتے جاگتے کردار کی صورت میں رو بہ عمل ہے۔
احادیث میں یہ خبر دی گئی ہے کہ امام مہدی کے ظہور سے عین قبل یمن میں اہل بیت کے چاہنے والوں کی ایک ایسی مضبوط حکومت قاہم ہوگی، جس کا کوٸی مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ اس حکومت کے پرچم کا رنگ بھی بتا دیا گیا ہے، جو سفید ہوگا۔ اس پرچم کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہوگی کہ یہ روئے زمین پر تمام پرچموں سے زیادہ ہدایت کا پرچم ٹھہرے گا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ یمن کے ”انصاراللہ“ کے پرچم کا رنگ سفید ہے اور اس پر لکھی ہوٸی عبارت اور نعرے وہ نعرے ہیں، جو آج کے تمام مظلوموں کے دل کی آواز ہیں۔ اپنی نوعیت کے اس واحد پرچم پر خدائے ذوالجلال کی بزرگی کے ساتھ ساتھ خدا کے دشمنوں سے اعلان برأت بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ جو دشمنان اسلام کے خلاف نازل ہونے والی ”سورہء برأت“ کا پرتو ہے۔
اس منفرد پرچم پر جو نعرے درج ہیں، وہ یقیناً صراط مستقیم پر گامزن ان لشکریوں کے ہی ہوسکتے ہیں، جو اپنے وقت کے امام کی آواز پر اس کے انصار بن کر نہایت سرعت کے ساتھ اس کی طرف لپک رہے ہیں اور دوسروں کو بھی اس راستے پر چلنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ ان کے ”رایہ ھدٰی“ پر یہ نعرے درج ہیں:
اللہ اکبر
الموت الامریکہ
الموت الاسراٸیل
اللعنة علی الیھود
النصر الاسلام
اہل یمن کے اس موجودہ قیام کا مشاہدہ کرنے کے لیے امام صادق (ع) نے اپنے چاہنے والوں کو اس امر کی خصوصی ہدایت کی ہے کہ وہ امام زمانہ کے ظہور سے پہلے یمن میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھیں۔
نصف صدی پہلے ایران میں برپا ہونے والا انقلاب بھی اپنے اندر تبدیلی کی طوفانی لہریں لیے ہوئے تھا۔ یہ انقلاب یقیناً امام زمانہ کے الہٰی انقلاب کا ایک زمینہ تھا۔ اہل یمن نے اسی انقلاب اور رہبر کبیر انقلاب اسلامی امام خمینی کی فکر سے رہنماٸی کشید کی۔ اہل ایران کی مقاومت پر گذشتہ پچاس سال سے بہت کچھ کہا گیا اور لکھا گیا، لیکن اب ضرورت ہے کہ اہل یمن کی موجودہ تحریک پر بھی بہت کچھ کہا اور لکھا جائے، کیونکہ امام معصوم نے اس پر خاص توجہ دینے کی تاکید کی ہے۔ اہل یمن کے بارے میں رسول اللہ نے زور دے کر فرمایا ہے کہ ”ایمان یمنیوں کا ہے۔“
اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل یمن کے پرچم کو سب پرچموں سے زیادہ ہدایت کے قریب کیوں کہا گیا اور ان کے ایمان کی تعریف نسبتاً زیادہ کیوں کی گئی ہے، جبکہ رسول خدا نے بعض مقامات پر فرمایا ہے کہ ”اگر ایمان ثریا ستارے پر بھی چلا گیا تو سلمان فارسی کی قوم اسے آسمان سے زمین پر کھینچ لائے گی۔“ اس کے ضمن میں عرض کروں گا کہ ایمان کے کئی مدارج ہوتے ہیں۔ اسے ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ کے کئی ایسے مخلص صحابہ تھے، جو ایمان کے اعلیٰ ترین مقام پر فاٸز تھے مثلاً جناب سلمان اور جناب ابوذر۔ لیکن امیرالمومنین نے ایک موقع پر جناب سلمان فارسی کے ایمان کو جناب ابوذر کے ایمان پر ایک درجہ فوقیت دی۔ وہ ابوذر جنہیں رسول خدا نے ”لسان الصدق“ فرمایا تھا۔
اہل ایران اور اہل یمن کے ایمان میں جب تقابل کیا جائے گا تو ہمیں بہرحال اہل یمن کے ایمان کی ایک اپنی سطح نظر آئے گی۔ ایسے میں جبکہ اہل فارس اور اہل یمن دونوں اپنی اپنی جگہ اعلیٰ درجے کے حامل ہیں۔ (اس کسوٹی پر تمام اہل ایران یا تمام اہل یمن پورا نہیں اترتے بلکہ اس کا اطلاق عمومی طور پر ہوتا ہے) اہل یمن کے اس ایمانی مرتبے کا ایک مظہر ان کا حالیہ جنگ میں امریکہ کو براہ راست جواب دینے کا ڈھنگ ہے۔ احادیث مبارکہ میں تین ایسے لشکروں کا ذکر کیا گیا ہے، جو امام مہدی کے ظہور سے پہلے خروج کریں گے اور ان کا خروج ماہ رجب میں ایک ہی وقت میں ہوگا۔ یعنی یہ ایک ہی زمانے میں کسی بڑی جنگ میں داخل ہوں گے۔
یہ تین لشکر خراسانی، یمانی اور سفیانی کے ہیں۔ (آخری خبریں آنے تک ایران اور یمن کی افواج ابھی تک کسی بڑی جنگ میں داخل نہیں ہوٸیں۔ البتہ اس کا امکان موجود ہے) خراسانی اور یمانی کے لشکر امام مہدی کے معاون ہوں گے، جبکہ سفیانی کا لشکر امام مہدی کے دشمنوں پر مشتمل ہوگا۔ اہل تشیع اور اہل تسنن میں خراسان کی جانب سے نکلنے والے ایک لشکر کا تذکرہ عام ہے، لیکن حقاٸق سے آنکھیں چرانے والے بعض کور چشمان خراسان کو افغانستان اور خراسانی کے لشکر کو طالبان سے جوڑنے پر بضد ہیں، جو یقیناً دور کی کوڑیاں ملانے کے مترادف ہے۔ اس وقت دنیا کے نقشے پر وہ ”خراسان“ جو حقیقت میں اپنا وجود رکھتا ہے، وہ صرف اور صرف ایران کا صوبہ خراسان ہے، جس کا دارالحکومت مشہد مقدس ہے، جہاں امام ہشتم (ع) کا حرم اپنی نور افشانی کر رہا ہے۔
جہاں خراسان سے نکلنے والے لشکر کا ذکر ملتا ہے، وہاں ”سید خراسانی“ کا تذکرہ بھی پایا جاتا ہے، جو اس لشکر کا کمانڈر انچیف ہے۔ آج اگر ہم اس حدیث کو کسی شخصیت پر منطبق کرنا چاہیں تو اس کا اطلاق محض آیت اللہ خامنہ ای پر ہوتا ہے، جو سید بھی ہیں اور جن کی جائے پیدائش صوبہ خراسان ہے۔ البتہ بصیر مطلق خدا کی ہی ذات ہے، جو بہتر جانتی ہے۔ رسول اللہ نے یمن اور شام کے لیے خصوصی دعا کی ہے۔ شام کے مجاہدین بھی آج محور مقاومت کا حصہ ہیں۔ یہ بات جاننا ضروری ہے کہ لبنان کبھی شام کا ہی حصہ تھا۔ صحابیء رسول حضرت ابوذر غفاری کو شام کے جس پہاڑی علاقے ”جبل عامل“ میں جلا وطن کیا گیا تھا، وہ آج کا جنوبی لبنان ہے اور حزب اللہ کا گڑھ ہے۔
آج ایران ہو، لبنان کی حزب اللہ ہو، فلسطین کی حماس اور جہاد اسلامی ہو یا یمن کی انصاراللہ، یہ مختلف جنگوں کی آگ میں کندن بن کر نکلے ہیں۔ شاید خدا کی یہی مصلحت تھی کہ ان قوموں کو جنگ کی بھٹی میں ڈھال کر ایک ایسی آتش بجاں قوت بنا دیا جائے، جو دنیا کے بڑے بڑے ستم گروں کو جلا کر بھسم کر دے۔ ایران پر آٹھ سال تک جنگ مسلط رہی۔ یمن پر سات سال تک آتش و آہن کی بارش برستی رہی۔ حزب اللہ کئی سالوں سے حالت جنگ میں ہے اور حماس جدوجہد کی ایک نئی علامت بن کر سامنے آٸی ہے۔ مشکلات کے اس بھنور سے نکل کر آج بفضل خدا روئے زمین پر ایک ایسی مشترکہ طاقت وجود میں آچکی ہے، جو یقیناً لشکر مہدی کی تشکیل میں ایک بنیادی کردار ادا کرے گی۔


































