
دمشق : شام کے ساحلی شہروں لاذقیہ اور طرطوس میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ جس میں کم از کم چار افراد ہلاک اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے۔
ہنگامہ گذشتہ روز اس وقت شروع ہوا جب شام کی اعلیٰ علوی اسلامی کونسل کے سربراہ غزال غزال نے مسجد میں خودکش حملے کیخلاف علوی کمیونٹی کو احتجاج کی کال دی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ شام میں وفاقی حکومت کا نظام نافذ کیا جائے اور حالیہ حملے کے بعد فرقہ وارانہ خلاف ورزیوں کی روک تھام کی جائے۔ ہنگامے اس وقت شروع ہوئے جب حکومت کے حامی بھی علوی مظاہرین کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے اس موقع پر چاقو زنی۔ پتھراؤ اور تشدد کے واقعات پیش آئے۔ مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں میں بھی جھڑپیں ہوئیں۔ طرطوس میں علوی اسلامی کونسل کے سربراہ شیخ علی حلحال کی گرفتاری پر احتجاج کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا۔ جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا ہے۔


































