
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے کہاہے کہ شہید قاسم سلیمانی کا قیام و جدوجہد نہ ہوتی اور مجاہدین کی جانیں نہ جاتیں تو بی بی زینب(ع) کے حرم۔ کربلا و نجف کا کوئی نشان نہ ہوتا۔ مزاحمتی محاذ کا احیاء شہید سلیمانی کی مستقل حکمت عملی تھی۔ شہید قاسم سلیمانی کے نزدیک مقدس مقامات کا دفاع ایک بنیادی اصول تھا۔ وہ ایران کو حرم سمجھتے تھے۔
شہید قاسم سلیمانی کی برسی پر تقریب سے خطاب میں ولی امر مسلمین نے کہا کہ کچھ لوگ خطے کے حالیہ واقعات سے متعلق مسائل کا درست فہم اور ضروری شناخت نہ ہونے کی وجہ سے غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ تصور کرتے ہیں کہ حرم زینبیہ کے دفاع میں جو خون بہایا گیا و رائیگان چلا گیا۔ ایسے لوگ جان لیں راہ حق میں بہنے والا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ جو لوگ آج اچھل کود کررہے ہیں وہ اہل ایمان کے قدموں تلے پامال ہو جائیں گے۔ دشمن فلسطین۔ لبنان اور یمن میں مزاحمت کے پرچم کو گرانے میں کامیاب ہوسکا نہ ہی ہوسکے گا۔ شام میں امریکی اڈے مقامی نوجوانوں کے پاؤں تلے روند دیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ شام شامی عوام کا ہے اور شامی سرزمین پر حملہ کرنے والے بلاشبہ ایک دن بہادر شامی نوجوانوں کی طاقت کے سامنے پسپائی پر مجبور ہو جائیں گے۔


































