
اللہ تعالی نے انسان کو محترم اور صاحب عزت بنایا ہے اور تمام مخلوقات پر اس کو احترام دیتے ہوئے اس کے لیے طیبات حلال کیے ہیں جیساکہ قرآن کریم میں وارد ہوا ہے۔ رسول اللہ ص نے انسانیت کو گمراہی کی ذلتوں سے نکال کر ہدایت کی عزت عنایت کی اور معاشرے میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا احترام برقرار کیا۔ آنحضرت ص کی تعلیمات میں بچے کی شخصیت کا خصوصی خیال رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ آپ ص کے مختلف واقعات وارد ہوئے جن میں آپ ص نے بچے کو سرزنش کرنے یا اس کو خوف زدہ کرنے سے منع فرمایا اور اس کی شخصیت کا خیال رکھتے ہوئے اس پر شفقت و محبت فرمائی۔ جس معاشرے میں بچے کو نظر انداز کیا جاتا ہے یا اس کی شخصیت کشی مسلسل کی جاتی ہے اس معاشرے میں بچے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر بچے کی عزت و تکریم کی پاسداری کی جائے اور اس کی شخصیت میں ایک محترم اور با عزت نفس کے وجود کا احساس پیدا کیا جائے وہ بچہ گناہوں اور معصیتوں سے اجتناب کرے گا اور اپنے نفس کو گناہوں سے آلودہ کر کے نفس کو ذلیل و خوار نہیں ہونے دے گا۔ امام علیؑ سے روایت میں وارد ہوا ہے
جس شخص کا نفس اس کے لیے محترم ہوتا ہے وہ گناہ کے ذریعے نفس کی توہین و تذلیل نہیں کرتا۔


































