
واشنگٹن : امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعتراف کیا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی وینزویلا کی طرح آسان نہیں ہوگی یہ کہیں زیادہ پیچیدہ معاملہ ہے۔ مارکو روبیو نے سینیٹ کی سماعت کےدوران بتایا کہ ایران میں کسی ممکنہ رجیم چینج کے امکانات پر بہت احتیاط کی ضرورت ہوگی اور اس صورت حال کو آسانی سے حل نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ وینزویلا میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تیس سے چالیس ہزار امریکی فوجی آٹھ یا نو تنصیبات میں تعینات ہیں، جو ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کی دسترس میں ہیں، اس لیے پیشگی دفاع روک تھام ضروری ہے۔ روبیو نے ایران کی حکومت کو ممکنہ طور پر پہلے سے کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران حکومت تبدیلی یا اپنا وجود ختم نہ کرے تو احتجاج دوبارہ بھڑک اٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی واضح نہیں جانتا کہ اگر ایران میں سپریم لیڈر کی تبدیلی ہوتی ہے تو کون حکمرانی سنبھالے گا، اور اس لیے محتاط سوچ اور دفاعی قوت کی ضرورت ہے۔


































