حماس اور الفتح کے رہنماوں کی ملاقات اور ورچوئل مذاکرات، دونوں تنظیموں کا الحاقی منصوبے اور ٹرمپ کے متنازع امن منصوبے کی مخالفت کا اعلان
قومی اتحاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے،الفتح، صیہونی حکومت کے مقابلے میں استقامت کا منصوبہ سرفہرست ہے،حماس
رام اللہ (نیوز ڈیسک)فلسطین میں سیاسی حریف الفتح اور حماس مغربی کنارے کے الحاق سے متعلق اسرائیلی منصوبے کے خلاف متحد ہو گئے ، رام اللہ میں نیوز کانفرنس کے دوران دونوں جماعتوں نے الحاقی منصوبے اور ٹرمپ کے متنازع امن منصوبے کی مخالفت کا اعلان کیا، الفتح کے سینئر عہدیدار جبریل الرجوب نے کہا کہ ہم توسیع پسندی کے خلاف کوششوں میں قومی اتحاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے،بیروت سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں حماس کے رہمنا صالح العاروری نے کہا کہ یہ اتحاد اس انتہائی خطرناک صورت حال میں ایک اہم موقع ہے اور یہ ہمارے لوگو ں کیلئے اسٹریٹجک طور پر ایک خدمت ثابت ہوگی،ادھر حماس کے رہنما حسام بدران نے فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن احمد حلس کے ساتھ ملاقات کی اور فلسطینیوں کے اتحاد پر زور دیا ، حسام بدران نے کہا کہ تمام فلسطینی گروہ سنیچری ڈیل اور غرب اردن کے الحاق کی سازش کو ناکام بنانے کے لئے اپنی تمام توانائیاں اور وسائل بروئے کار لانے کے لئے پرعزم ہیں، اسرائیل نے حماس اور فتح کے درمیان تعاون پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ،اسرائیلی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو فلسطین کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر نئی اور سخت شرائط کا سامنا ہے، موجودہ شرائط میں حماس اور فتح کے درمیان کشیدگی ختم ہوکر صلح اور باہمی تعاون میں تبدیل ہورہی ہے ،ادھر حماس کے رکن موسی ابو مرزوق نے کہا کہ تحریک حماس ایک ایسا جامع قومی منصوبہ تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں غاصب صیہونی حکومت کے مقابلے میں استقامت سر فہرست قرار پائے، انہوں نے کہا ہے کہ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس حقیقی قومی اتحاد کے ذریعے ایک بار پھر استقامت کے عمل کا اعتبار بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ سیاسی فیصلوں میں تمام فلسطینی گروہ شامل ہوں۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- الفتح اور حماس میں مفاہمت سے اسرائیل میں کھلبلی
الفتح اور حماس میں مفاہمت سے اسرائیل میں کھلبلی
-
Ilyas - جولائی 9, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 12
- 0 minute read


































