
تہران : ولی امرالمسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے تحریک مزاحمت کو مسئلہ فلسطین کے حل کا واحد راستہ قرار دیا ہے۔ عالمی یوم القدس کے موقع پر نشر خطاب میں آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ بیت المقدس مسلمانوں کو آواز دے رہا ہے اور جب تک فلسطین سے غاصب صیہونیوں کا قبضہ ختم نہیں ہوجاتا اس وقت تک ہر دن کو یوم القدس سمجھنا چاہیے۔ آپ نے مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کا اولین مسئلہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے نسل پرست اور کینہ پرور عالمی طاقتوں پر ہرگز بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مسجد الاقصی کے دفاع میں فلسطینیوں کی حالیہ اسقامت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں کے واقعات نے صیہونی دشمن کے ساتھ مفاہمت کے تمام منصوبوں پر خط بطلان کھینچ دیا ہے۔ فلسطین کی حالیہ پیشرفت اسرائیل کیساتھ سمجھوتوں کی سازش کیلئے موت کا الارم ہے. ایران فلسطینیوں اور ان کی تحریک مزاحمت کا حامی ہے اور ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے خیانت آمیز عمل کی مذمت کرتے ہیں۔اس سال یوم القدس ایسے وقت میں منایا جارہا ہے کہ جب ساری چیزیں فلسطین کے حال اور مستقبل میں نئے توازن کے قیام کا عندیہ دے رہی ہیں اور جرائم پیشہ صیہونی حکومت دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ آج غاصب صیہونی حکومت کے سب سے بڑے حامی امریکا کو بھی دنیا میں پے در پے شکستوں کا سامنا ہے ، اسے افغانستان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایران کے خلاف دباؤ ڈالنے کی پالیسی دم توڑ گئی ہے، عالمی معیشت پر اس کی گرفت کمزور ہوئی ہے اور خود امریکا کا اندرونی نظام زبوں حالی کا شکار ہے. انہوں نے فلسطینی نوجوانوں پر درود و سلام بھیجتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام جس بھر پور انداز میں آج اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے نکلے اس سے استقامتی محاذ اور فلسطینی عوام کو بڑا حوصلہ ملا ۔


































