
تحریر: شبیر احمد شگری
پاکستان اور ایران دونوں ہمسایہ برادر اسلامی ممالک کے درمیاں مذہبی، علمی، ثقافتی، تجارتی اور بےشمار تعلقات کی مشترکہ اور گہری جڑیں موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل سرحد موجود ہے۔ پاکستان کی طرح ایران کو بھی قدرت نے بیش بہا قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے۔ ہمارے ملک میں انرجی کی شدید قلت ہے جبکہ ایران میں گیس، بجلی اور تیل کی پیداوار بہت زیادہ ہے۔ ہمیشہ کی طرح حال ہی میں ایرانی سفیر نے پاکستان کو سستی انرجی مہیا کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیاں بہت سی بات چیت اور معاہدے بھی ہوتے رہتے ہیں، لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ بیرونی دباو میں آکر ہم اپنے دروازے پر موجود سستی گیس، بجلی اور پٹرول نہیں لے سکتے، جبکہ دور دراز کے ممالک سے مہنگے داموں خریدتے ہیں۔ اللہ کرے کہ ہمارے حکمران ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران سے یہ وسائل حل کرسکیں، تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی آسکے۔
ایک مرتبہ پھر ایران نے پاکستان کیساتھ ہمیشہ کی طرح گرمجوشی کیساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ پاکستان میں موجود ایرانی سفارتخانے کے مطابق ایران نے ترجیحی تجارتی معاہدے یا پریفرنشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کے تحت پاکستان کیساتھ درج تمام اشیاء کی درآمد پر پابندی ہٹا دی ہے۔ پاکستان اور ایران نے پی ٹی اے معاہدے پر مارچ 2004ء میں دستخط کیے تھے اور وفاقی کابینہ نے مئی 2005ء میں اس کی توثیق کی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ستمبر 2006ء میں پاکستان ایران ترجیحی تجارتی معاہدے کو فعال کیا گیا تھا۔ ان اشیاء پر پابندی ہٹنے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیاں تجارت کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔ ایران کی جانب سے یہ ایک احسن اقدام ہے۔ اس معاہدے میں 309 پاکستانی اشیاء اور 338 ایرانی اشیاء کو کم ٹیرف کیساتھ برآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے مطابق 2022ء کی ٹیرف بک کے مطابق پاکستانی اشیاء کی 309 اور ایرانی اشیاء کی 338 اشیا کی تعداد 570 اور 750 سے زائد ہوگئی ہے۔ یہ مسئلہ پاکستان کیساتھ تجارت اور آزادانہ تجارت کی ترقی کے لیے ایک بہترین چیز ہوسکتا ہے۔
اس سال کے سات مہینوں میں ایران کی پاکستان کو برآمدات 704 ملین ڈالر اور اس ملک سے درآمدات 563 ملین ڈالر رہیں اور اس معاہدے کی بنیاد پر دونوں ممالک کے اوسط ٹیرف میں 19.5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس بنیاد پر ایرانی اشیاء کے لیے اوسط ٹیرف %26 اور پاکستانی اشیاء کے لیے %12.7 ہے۔ یہ دونوں اعداد و شمار معاہدے سے پہلے موجود ٹیرف کے مقابلے میں 19.5 فیصد کم ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں وزارت صنعت، معدنیات اور تجارت کے ترجمان نے 2017ء میں زرمبادلہ کے مسائل اور درآمدی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2017ء سے اب تک 2000 سے زائد اشیاء کی درآمد پر پابندی لگائی گئی اور ایران پاکستان ترجیحی ٹیرف معاہدے میں شامل کئی اشیاء کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا اور ترجیحی ٹیرف کے بنیادی کام میں خلل پڑا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاہدے کے اعلان کیساتھ، پاکستان کے ساتھ ترجیحی ٹیرف کے نظام سے متعلق تمام اشیاء کی درآمد، جس پر 2017ء میں پابندی عائد کی گئی تھی، اٹھا لی گئی اور پاکستان کیساتھ ترجیحی تجارت کا بنیادی کام بحال ہوگیا۔
چونکہ پاکستان میں حالیہ سیلاب کے بعد لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ اس لئے ایران نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرین کی تکالیف کو کم کرنے کیلئے بھی انسان دوستانہ اقدام کرتے ہوئے ایل پی جی گیس کی ایک بڑی کھیپ بھی عطیہ کی ہے، یہ امداد پاکستان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جا رہی ہے۔ اس امداد کی پہلی کھیپ چابہار میں ریمدان بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کی گئی تھی۔ اس کیساتھ ساتھ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ پاکستان کی مختلف حکومتوں کی جانب سے ایران گیس پائپ لائن معاہدے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد سے خاموشی اور پسپائی ایسی حالت میں ہے، جب اس ملک کے عوام اور مختلف صنعتوں کو موسم سرما میں گیس کی قلت اور شدید سردی کی وجہ سے بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ اگرچہ ایران پاکستان کی سرحد تک گیس پائپ لائن کی تعمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے دو ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے، لیکن ایک عرصہ گزرنے کے باوجود پاکستانی فریق نے اس معاہدے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا۔
یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ پابندیوں کے چیلنجز اور خطرات کے پیش نظر ایران کے گیس منصوبے کو آگے بڑھانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، جبکہ دور دراز سے گیس لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستانی میڈیا اور عوام کی جانب سے شدید ردعمل اور مطالبات بھی کئے جاتے رہے ہیں، لیکن پاکستانی حکومت کی جانب سے اس پر مکمل خاموشی ہے، جبکہ عوام میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ برادر اسلامی ہمسایہ ملک کی آفر کے باوجود حکومت کیوں جرات مندانہ اقدامات نہیں اٹھاتی، تاکہ عوام کو گیس، بجلی اور پٹرول کی سستے داموں دستیابی ممکن ہوسکے۔ ایران میں پٹرول 15 روپے لیٹر ہے جبکہ ہمارے ہاں آئے روز اس میں اضافہ ہی ہوتا آرہا ہے۔ اسی طرح ہمیں فخر ہے کہ ہمارا دوست ملک ایران جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا اور ہمیں گیس، بجلی پٹرول دیگر مصنوعات کی برادرانہ پیشکش کرتا رہا ہے، لیکن نامعلوم کونسے عوامل ہیں،جو ہمیں ان نعمات سے روکے ہوئے ہیں اور ہم ہیں کہ مہنگائی کی دلدل میں پھنسے جا رہے ہیں۔
ایران کی پیشکشیں اپنی جگہ، لیکن وقت ہے کہ ہم سنجیدگی سے اس پر غور اور اہم اقدامات کریں۔ ایران اور پاکستان تجارت کے حوالے سے ایک دوسرے کی ضروریات کو مکمل کرسکتے ہیں، جو کہ مختلف شعبوں بشمول سامان کی نقل و حمل، بارٹر سسٹم کے ذریعے مصنوعات کا لین دین، ٹیرف میں کمی اور سرحد پار مارکیٹوں کے نفاذ میں تعاون کو فروغ دے کر بہت سے مسائل کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے صدر عارف علوی نے ترکمانستان میں منعقدہ ای سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر اپنے ایرانی ہم منصب آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کیساتھ ملاقات میں ایران کیساتھ دوطرفہ تعلقات کو گہرا کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بارٹر سسٹم کے ذریعے تجارت کے نفاذ اور اقتصادی رابطوں کو فروغ دینے کیلئے مشترکہ اجلاسوں کے انعقاد پر زور دیا۔ ایرانی صوبے سیستان اور بلوچستان کی سرحد سے منسلک صوبے کے طور پر بلوچستان کے بندرگاہی شہر گوادر میں منعقدہ اجلاس میں پاکستانی صدر عارف علوی ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت کیلئے مقامی کرنسی (قومی کرنسی) کے استعمال پر سنجیدگی سے عمل کرنے پر زور دے چکے ہیں۔
اس سلسلے میں صدر پاکستان نے پاکستان کے مرکزی بینک کے گورنر کیساتھ ساتھ نیشنل ریونیو آرگنائزیشن (ایف بی آر) کے چیئرمین کو مقامی کرنسی کے ذریعے ایران کیساتھ دوطرفہ تجارت کیلئے تمام ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت کی۔ کیونکہ ایران کے اوپر اقتصادی پابندیوں کی وجہ دوسرے ممالک کیساتھ تجارت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس میں سب سے بڑا مسئلہ دوسرے ممالک کے مابین بینکنگ نظام کا ہے۔ تاہم ایران اور پاکستان کے درمیان بالخصوص بینکنگ کے شعبے میں برادرانہ تعلقات کے فروغ کے لئے بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ایران و پاکستان کے درمیان طویل سرحد اور مختلف قسم کی مصنوعات کے پیش نظر سرحدی منڈیوں کا قیام دونوں ملکوں کے مابین اقتصادی و تجارتی تعلقات کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔ مشترکہ سرحدی بازاروں کے قیام سے ایران اور پاکستان کے درمیان نہ صرف تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ غیر قانونی سمگلنگ کی بھی روک تھام ہوگی۔


































