
اسلام آباد: حکومت نے ایک مرتبہ پھر عوام پر بوجھ ڈالتے ہوئے پٹرولیم لیوی کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کر دیا، وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر کر دی گئی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے مقرر کردی گئی۔ جیٹ فیول کے نرخ بھی ایک ماہ کے دوران چھٹی بار بڑھ گئے۔ حکومت نے پٹرول پر لیوی میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا، پٹرول پر لیوی بڑھ کر 160.61 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اس سے پہلے پٹرولیم لیوی 106 روپے فی لیٹر تھی۔
رواں مالی سال پٹرولیم لیوی کا ہدف ایک ہزار 468 ارب روپے مقرر ہے، لیوی کی شرح بلند ہونے سے نان ٹیکس ریونیو میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر پٹرول و ڈیزل پر سبسڈی بھی ختم کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق جیٹ فیول کی قیمت میں مزید 40 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 517 روپے 17 پیسے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، یکم مارچ سے اب تک جیٹ فیول کی قیمت میں مجموعی طور پر 329 روپے 17 پیسے کا بڑا اضافہ ہوچکا ہے جبکہ یکم مارچ کو فی لیٹر قیمت 188 روپے تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیٹ فیول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث ایئر لائنز کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل پروازوں کے کرایوں میں بھی اضافے کا قوی امکان ہے۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق اگر قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو مسافروں کو آنے والے دنوں میں مزید مہنگے فضائی سفر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


































