
تل ابیب: انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی رہنماؤں نے فلسطینیوں کیلئے سزائے موت کے کالے قانون کی منظوری کو خطرناک اقدام اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے اسرائیلی قانون کو خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قابض ریاست کو فلسطینی سرزمین پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔
حماس نے اس قانون کو قیدیوں کی جانوں کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ اور کہا کہ یہ فیصلہ صیہونی قیادت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کو نظرانداز کرنے کا ثبوت ہے۔ یورپی ممالک، اقوام متحدہ کے ماہرین اور دیگر عالمی اداروں نے بھی اس قانون کو انسانی حقوق کے خلاف اور کشیدگی میں اضافے کا سبب قرار دیا ہے۔ عالمی ردعمل میں اس قانون کو ایک خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل میں انسانی حقوق کی تنظیم نے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل بھی دائر کر دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں مزید بدامنی اور تشدد کو ہوا دے سکتا ہے۔


































