
اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور فوجی تعطل کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ موجودہ علاقائی چیلنجز کا پائیدار حل بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 24 اگست کو ایران کا دورہ کیا ، جس میں ایرانی قیادت سے کشیدگی کے خاتمے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل وزیر خارجہ نے 14 اگست کو تہران کا دورہ کیا، جہاں ہونے والی بات چیت میں خطے میں کشیدگی میں کمی، فوجی تعطل ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے افغان عبوری حکومت کو ٹھوس ثبوت فراہم کرنا ہوں گے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہے۔
بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی جانب سے کرانہ ہلز پر حملے سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور پاکستان اپنے اسٹریٹجک اثاثوں کے تحفظ اور سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی حکام کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بالی وڈ سٹائل بیانات کی کوئی اہمیت نہیں، انہوں نے سوال اٹھایا کہ 16 سے 18 ماہ بعد اس طرح کے بیانات دینے کی کیا وجہ ہے؟
طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستان نے ایس سی او میں ایک سال کیلیے چیئرمین شپ سنبھالی ہے، پاکستان 2027 میں ایس سی او کی میزبانی کرے گا، وزیراعظم بشکیک میں ایس سی او کانفرنس میں شریک ہوئے۔


































