
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ عیدالفطر کے بعد پورے ملک میں عوامی مہم چلائی جائے گی۔
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 19 فروری کو بورڈ آف پیس کا اجلاس اصل میں اقوام متحدہ کو بائی پاس کرنے کی کوشش ہے، یہ عالمی ادارے کی افادیت کو چیلنج کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کہہ چکی ہے، ایجنڈے میں تبدیلی لائی گئی تھی، اس کے باوجود اس فورم پر جانا ٹھیک نہیں، نیتن یاہو قاتل اور سفاک ہے، لاکھوں لوگوں کو قتل کیا گیا اور فلسطینیوں کی لاشیں اب بھی کھنڈرات میں دبی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کہتے ہیں ہم اس سفاک کے ساتھ امن کی بات کرنے جا رہے ہیں ۔ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ عالمی سطح پر فلسطینیوں کے خون سے مذاق نہ کیا جائے گا، اگر حکمران امریکی غلامی پر بضد ہیں تو ہم پھر آزادی کی تاریخ دہرانے کے لیے باہر نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک دفعہ فلسطینیوں کا قتل عام کر چکا جس سے فلسطینی بھولے نہیں ہیں، کیا آپ ایک بار بھر وہی عمل دہرائیں گے، فلسطین میں فوج بھیجنا پاکستان کو اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑا کرنا ہے۔ جب آپ حماس کو غیر مسلح کریں گے تو آپ مسلمانوں سے لڑیں گے، ہم حکومت کو کوئی مہلت دینے کو تیار نہیں کہ وہ عالمی طاقتوں کی پراکسی بنے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں عالمی سطح پر فلسطینیوں کے خون سے مذاق نہ کیا جائے گا، اگر حکمران امریکی غلامی پر بضد ہیں تو ہم پھر آزادی کی تاریخ دہرانے کے لیے باہر نکلیں گے، ان اطوار کے ساتھ حکومت کو چلنے نہیں دیں گے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ حکومت غزہ میں فوج بھیجے گی، کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان آئی ایس ایف کا حصہ بنے۔


































