
اسلام آباد : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ امریکا نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا اور ایک اور جال میں پھنس گیا۔ مجھے غلط لگتا تھا کہ امریکا نے ویتنام کی جنگ سے سبق سیکھا ہوگا اور وہ کسی اور جال میں نہیں پھنسے گا۔ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب میں صدر علوی نے کہا کہ یورپ نے اپنی سرزمین پرمزید جنگیں نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن وہ افریقا اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو تباہ کرتے رہے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لاکھوں مہاجرین کی میزبانی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کے برعکس یورپ نے کہا کہ انہیں بحیرہ روم میں ڈوبنے دیا جائے جبکہ ان کے ریپ اور قتل کی بھی اطلاعات ملیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کسی پولرائزیشن کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور ملک کے آباو اجداد نے بھی الگ وطن کا مطالبہ کرنے سے پہلے بقائے باہمی کی وکالت کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی انتشار پسندی کی حمایت کرنے کے بجائے پاکستان خطے میں امن اور ترقی کے لیے اقوام کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تجارت کے شعبوں میں تعاون چاہتا ہے۔


































