
غزہ : اسرائیل کی ظالمانہ پالیسیوں نے نسل کشی کے بعد غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں پانچ لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو روزگار سے محروم کر دیا۔
فلسطینی محنت کشوں کی جنرل فیڈریشن نے انکشاف کیا ہے کہ مغربی کنارے میں بیروزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ کر پچاس فیصد سے تجاوز کر چکی ہے اور غزہ میں یہ شرح چوراسی فیصد سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ پالیسیاں فلسطینی محنت کشوں کے خلاف ایک مرکب جرم کی حیثیت رکھتی ہیں، جو اس کے فطری حق، یعنی روزگار اور باعزت زندگی، پر براہ راست حملہ ہیں۔ بیان میں بتایا گیا کہ فلسطینی محنت کشوں کو معاشی نقصانات نو ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ یہ نقصان اس وقت مزید بڑھا جب قابض اسرائیل نے انہیں انیس سو اڑتالیس کے مقبوضہ علاقوں اور یہودی بستیوں میں واقع کام کی جگہوں تک رسائی سے روک دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی پیداواری شعبوں، بالخصوص زراعت، تعمیرات اور خدمات کے شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔


































