
تہران: ولی امر المسلمین نے ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی کی جانب سے قیدیوں کی سزاؤں کو معاف کرنے یا کم کرنے کی درخواست پر اتفاق کیا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے یہ منظوری اسلامی انقلاب کی 44 ویں سالگرہ اور ولادت حضرت علی ابن بی طالب علیہ السلام کے موقع پر دی۔
آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے ہزاروں قیدیوں کے لیے معافی کا اعلان کیا۔ ایرانی عدلیہ نے اپنے جرائم پر نادم قیدیوں کے لیے معافی کی استدعا کی تھی۔ معاف کیے گئے قیدیوں میں حالیہ پرتشدد مظاہروں میں ملوث افراد بھی شامل ہیں۔ دُہری شہریت۔ غیر ملکی ایجنسیوں اور ایران مخالف گروپوں کے لیے جاسوسی کرنے والے۔ قتل و تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو معافی نہیں دی گئی ہے۔ معافی کی سرکاری درخواست کو آئین کے آرٹیکل 110 کے 11ویں پیراگراف کے تحت منظور کیا گیا۔جو رہبر اعلیٰ کوعدلیہ کے سربراہ کی سفارش پر مجرموں کی سزاؤں کو معاف کرنے یا کم کرنے کا اختیار دیتا ہے۔


































