
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں، شاہ محمود قریشی اور دیگر حکام سے ملاقاتیں شیڈول ہیں، 23 مارچ کی پریڈ بھی دیکھیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام، چینی سفارتکاروں نے ہوائی اڈے پر چینی وزیر خارجہ کا استقبال کیا، وانگ ژی ہم منصب شاہ محمود قریشی، صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف سے اہم ملاقات کریں گے۔
اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے مابین وفود کی سطح دوطرفہ مذاکرات بھی منعقد ہوں گے، دونوں ممالک کے مابین اقتصادی، تجارتی، دفاعی امور، سی پیک پر اہم تبادلہ خیال ہو گا جبکہ چینی وزیر خارجہ یوم پاکستان کی تینوں مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ میں شرکت کریں گے، او آئی سی کے 48 ویں وزارتی کونسل اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین کے وزیر خارجہ پہلی دفعہ او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہیں، او آئی سی اجلاس کے حوالے سے اسلام آباد میں گہما گہمی ہے، افغانستان کے لیے ٹرسٹ فنڈ کے چارٹر پر دستخط کیے جا چکے ہیں، اسلامی ملکوں کے نمائندے پاکستان تشریف لا رہے ہیں، پچھلے اجلاس میں فوکس افغانستان، اس اجلاس کا فوکس کشمیر ہوگا، پاکستان مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اٹھائے گا۔
ادھر او آئی سی اجلاس میں شرکت کیلئے مہمانوں کی آمد جاری ہے، مالدیپ صومالیہ، بنگلا دیش اور یوگنڈا سمیت کئی ممالک کے وزرائے خارجہ اور وفود پاکستان پہنچ گئے، سیکریٹری جنرل او آئی سی کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں اہم امور پر بات چیت ہوئی۔
وزیر خارجہ اور سیکریٹری جنرل او آئی سی نے وزرا خارجہ کونسل کے اڑتالیسویں اجلاس کے ایجنڈے کا جائزہ لیا، شاہ محمود قریشی اور سیکریٹری جنرل او آئی سی نے کانفرنس کے متوقع بنیادی نتائج پر تبادلہ خیال کیا، وزیر خارجہ نے پاکستان کے لئے او آئی سی وزرا خارجہ کونسل کی خصوصی اہمیت کو اجاگر کیا ۔
انہوں نے کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کے لئے او آئی سی کے اصولی موقف اور مسلسل حمایت کو سراہا، پاکستان کے اقدام کی او آئی سی اور اس کے رکن ممالک کی جانب سے حمایت پر خراج تحسین پیش کیا جبکہ وزیر خارجہ نے اسلاموفوبیا پر او آئی سی کے نمائندہ خصوصی کے تقرر کی تجویز کو سراہا۔


































