
کادونا: نائیجریا کے صوبے کادونا میں حکومت نے شیعہ مسلمانوں کے مکانات، اسپتال، اسکول اور امام بارگاہ سمیت چھ املاک کو مسمار کردیا۔ جن املاک کو مسمار کیا گیا ہے ان میں الکوثر اسپتال، شیخ زکزاکی کے نمائندے شیخ علیا ترمذی کا گھر، قرآن سینٹر اور پرائمری اور ہائی اسکول کی عمارات شامل ہیں۔ گورنر ناصر احمد الرفاعی نے اپنی مدت ختم ہونے کے بعد شیخ ابراہیم زکزاکی کی اسلامی تحریک سے وابستہ افراد اور عمارات کو گرانے کا حکم جاری کیا ہے جن میں گبائیگی کے رہائشی کمپلیکس کے علاوہ دیگر عمارات بھی شامل ہیں ۔اسلامی تحریک نے ہائی کورٹ میں ان غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔ جس میں املاک کا غیر قانونی انہدام روکنے کے لیے حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔حکومت کے پاس جائیداد کو تباہ کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ شیعوں کو اسلامی اسکول بنانے کے لیے دی گئی بہت سی زمینیں ریاست کے حکام نے ضبط کر لی ہیں۔ اس سے قبل نائجیریا کے شیعوں نے کدونا ریاست کے گورنر کے خلاف نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا۔


































