
لاہور: پاکستان اورکینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے درمیان ریکوڈک منصوبہ کے تحت سونے اور تانبے کی کان کنی پر معاہدہ طے پا گیا۔
معاہدے کی تقریب میں وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو، وزیر خزانہ شوکت ترین سمیت دیگر نے شرکت کی جبکہ چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر مارک برسٹو کی قیادت میں بیرک گولڈ کے وفد کے ہمراہ معاہدے پر دستخط کیئے۔
نئے معاہدے کی شرائط کے مطابق ریکوڈک پراجیکٹ کو پاکستانی اداروں کے ساتھ شراکت میں بیرک گولڈ کے ذریعے بحال اور تیار کیا جائے گا۔ نئی پراجیکٹ کمپنی کا 50 فیصد حصہ بیرک گولڈ کے پاس ہوگا۔
معاہدے کے مطابق 50 فیصد حصہ پاکستان کا ہو گا، 25 فیصد حصہ بلوچستان کی حکومت کا ہے جبکہ اوجی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ(پی پی ایل) اورگورنمنٹ ہولڈنگز پرائیوٹ لمیٹد کا 25 فیصد حصہ ہوگا۔ بلوچستان کی حکومت کاحصہ وفاقی حکومت ادا کرے گی، حکومت بلوچستان مائنز کی تعمیر میں کوئی اخراجات برداشت نہیں کرے گی۔
بیرک گولڈ اور اس کی شراکت دار کمپنیاں 10 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کریں گی جس سے بلوچستان میں ملازمتوں کے 8 ہزار مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کو بے پناہ فوائد ملیں گے جبکہ ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری علیحدہ سے کی جائے گی، بلوچستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سڑکوں، اسکولوں، ہسپتالوں، کان کنی کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کی تشکیل جیسے سماجی ترقی کے منصوبوں کی جائے گی۔ یہ منصوبہ بلوچستان کو پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔
معاہدے کے بعد وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین ، وفاقی وزیر حماد اظہر اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے میڈیا سے گفتگو کی۔
وفاقی وزیرخزانہ نے کہا کہ 2011 میں عدالت عظمیٰ نے ریکوڈک معاہدہ ختم کر دیا تھا جس پر یہ معاملہ بین الاقوامی ثالثی عدالت میں چلاگیا، انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن نے پاکستان پر تقریباً 6.4 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ لندن کورٹ آف آربیٹریشن میں بھی پاکستان کے خلاف ساڑھے چار ارب ڈالرکا جرمانہ عائد ہونا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے 2019 میں جارحانہ انداز میں یہ معاملہ حل کرنے کیلئے کوششوں کاآغاز کیا۔ وزیراعظم نے ایک اپیکس باڈی بنائی جس نے سخت محنت کی اور چلی کی کمپنی انٹوپگاسٹا کے ساتھ 950 ملین ڈالر پر معاہدہ ہوا، اس کمپنی نے 3.25 ارب ڈالرکے کلیم کو واپس لیا، یہ کمپنی اب ریکوڈک میں شامل نہیں ہوگی۔
وزیر خزانہ نے کہاکہ آج کے معاہدے سے نہ صرف 11 ارب ڈالرکاجرمانہ ختم ہواہے بلکہ اب بیرک گولڈ اوراس کی شراکت دارکمپنیاں 10 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کریں گی جس سے بلوچستان میں ملازمتوں کے 8 ہزارمواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کو بے پناہ فوائد ملیں گے۔ معاہدے سے انکم فلو 100 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، اس سے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کوٹیکسوں کی مد میں بے پناہ ریونیوحاصل ہوگا۔ معاہدہ ایک بڑی خبرہے، اگروزیراعظم عمران خان اس میں ذاتی دلچسپی نہ لیتے تویہ معاہدہ ممکن نہ تھا۔ معاہدے کے تحت ایس او ایز 900 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔
وفاقی وزیر توانائی حماد اظہرنے اس موقع پرکہا کہ آج پاکستان کیلئے ایک تاریخی دن ہے، برآمدات، زرمبادلہ اورغیرملکی سرمایہ کاری کیلئے یہ اہم ترین پیش رفت ہے، میں قوم کومبارکباد دیتاہوں۔ ریکوڈک دنیا میں سونے اورکاپرکی سب سے بڑی مائن ہے، آج اس کادروازہ کھل گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو 10 ارب ڈالرکاجو جرمانہ اداکرنا تھا وہ ختم ہوگیا ہے۔
حماد اظہرنے کہا کہ یہ ایک گیم چینجرمنصوبہ ہے اوریہ پہلی بارنہیں ہواہے کہ حکومت نے پچھلی حکومتوں کے پیدا کردہ کوئی مسئلہ حل کیاہو، اس سے قبل کارکے کا تنازعہ موجودہ حکومت نے حل کیاہے،فیٹف کے گرے لسٹ کے مسئلہ کوبھی حل کیاجارہاہے اورپاکستان نے فیٹف ایکشن پلان کے 34 میں سے 32 نکات پرعمل درآمد کیاہے۔اسی طرح موجودہ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پرنظرثانی کیلئے مذاکرات کئے، آج جومعاہدہ ہواہے وہ پاکستان تحریک انصاف کا اعزاز ہے، اس میں وزارت خزانہ، پیٹرولیم ڈویژن، اٹارنی جنرل آفس اور وزارت قانون نے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل تعریف ہے، ان اداروں اور افراد نے پاکستان کے مفادات کاجس اندازمیں تحفظ کیاہے وہ لائق تحسین ہے۔
حماد اظہر نے کہاکہ معاہدے کے تحت 50 فیصدحصہ بیرک گولڈ کاہوگا،25 فیصدحصہ بلوچستان کی حکومت کاہے جبکہ اوجی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولئیم لیمیٹڈ(پی پی ایل) اورگورنمنٹ ہولڈنگزپرائیوٹ لمیٹد کا 25 فیصدحصہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ معاہدہ سپریم کورٹ اور پارلیمان میں پیش کیاجائیگا۔ بیرک گولڈ دنیا میں گولڈ اورکاپرمائننگ کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ اس کے بعد پاکستان میں کان کنی کی مزیدکمپنیاں آئیں گی۔انہوں نے کہاکہ آج ایک تاریخی دن ہے کیونکہ پاکستان پر آئی مشکل کو آسانی میں تبدیل کردیاگیاہے۔


































