
تل ابیب: اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ میں ترکیہ اور قطر کی فوج کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غزہ میں دونوں ممالک کے فوجی تعینات نہیں ہوں گے۔ بنیامین نیتن یاہو نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ غزہ میں ٹرمپ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے قریب ہیں۔ اس مرحلے کا مطلب حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کو مکمل طور پر غیر فوجی بنانا ہے۔ نیتن یاہو نے امریکا کی حمایت سے قائم کیے گئے غزہ ایگزیکٹو بورڈ کی تشکیل پر بھی اعتراضات دہرائے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں کسی صورت ترکی یا قطر کے فوجیوں کی موجودگی قبول نہیں کی جائے گی۔
یہ بیان ٹرمپ منصوبے کے تحت مجوزہ انٹرنیشنل استحکام فورس کے تناظر میں سامنے آیا۔ ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ اس فورس میں کون سے ممالک شامل ہوں گے، جسے غزہ میں سیکیورٹی اور نئی پولیس فورس کی تربیت سونپی جائے گی۔


































