
غزہ : حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ حماس، جنگ بندی کے معاہدے اور صیہونی قیدیوں کی لاشوں کی واپسی کے میکانزم پر مکمل طور پر عمل کر رہی ہے البتہ دوسری جانب صیہونی وزیراعظم نتین یاہو نت نئے بہانوں سے جنگ بندی کے معاہدے کو پامال کر رہے ہیں۔
حازم قاسم نے ان خیالات کا اظہار الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم صیہونی قیدیوں کی لاشوں کی حوالگی کے لئے ملبے تلے اپنی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حازم قاسم نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غاصب رژیم نہیں چاہتی کہ جنگ بندی کا معاہدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھے، اس لئے اس معاہدے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حازم قاسم نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کے تنگ نظر جماعتی مفادات کی وجہ سے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، ان کی کابینہ غزہ کی پٹی میں ہماری عوام کو دھمکا رہی ہے اور چاہتی ہے کہ اس علاقے کو ویران کرنے کے بعد فلسطینیوں کو وہاں سے جبری طور پر بیدخل کر دے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنگ بندی معاہدے کے پابند ہیں، جن میں باقی قیدیوں کی لاشوں کی واپسی بھی شامل ہے۔ جس کے حصول کے لئے ہم چوبیس گھنٹے کوشش کر رہے ہیں۔ لاشوں کی تلاش میں کچھ مشکلات ہیں جن کا سبب خود غاصب رژیم ہے اور حماس ان مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہم نے ثالثوں کو صیہونی قیدیوں کی لاشوں کی تلاش میں درپیش رکاوٹوں کے بارے میں بتایا ہے اور ان سے مزید مشینری کی فراہمی کی درخواست کی ہے.


































