
خرطوم : سوڈان میں جنگ بندی پر مذاکرات معطل ہونے سے ایک بار پھر خونریزی کے خدشات نے سراٹھالیا ہے۔ سوڈانی فوج نے پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورس سے مذاکرات کا سلسلہ روک دیا ہے۔ سعودی عرب اور امریکا کی کوششوں سے مئی کے اوائل میں متحارب فریقوں میں مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔ مذاکرات کے دوران عام لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مختصر دورانیے کے دو فائربندی کے اقدامات سامنے آئے تاہم ان کی کئی بار خلاف ورزی ہوئی۔ سعودی عرب اور امریکا کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باوجود سوڈان میں پھنسے 20 لاکھ افراد تک امدادی سامان کی فراہمی ہو رہی ہے۔ جنگ کے باعث 14 لاکھ کے قریب افراد کو گھر چھوڑنا پڑا ہے اس میں ساڑھے تین لاکھ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو پڑوسی ممالک میں پہنچے۔ دارالحکومت خرطوم سمیت دیگر شہروں میں لوٹ مار کے بے شمار واقعات ہوئے جبکہ پانی اور بجلی کی فراہمی بھی منقطع ہے۔


































