کچھ ماہرین اس بات کے حامی ہیں کہ بچے میں نظم و ضبط لانے کے لئے والدین کا پہلے خود منظم ہونا ضروری ہے۔ایک محقق کے خیال میں والدین کو بچے کے نظم و ضبط سے متعلق بات کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ خود کس طرح اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہیں، مسائل کو حل کرتے ہیں اور دوسروں سے بات چیت کرتے ہیں۔ حالیہ تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اکثر والدین تھوڑی سی کوشش سے اپنے بچے کے رویے کو بہترکر سکتے ہیں، تھوڑی سی ذاتی کوششیں بہت تیزی سے بچوں کے مسائل کو حل کردیتی ہیں۔
۔۔جو والدین اپنے بچوں کی ضروریات سے متعلق بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں ان کے بچے زیادہ فرمانبردار ہوتے ہیں۔
۔۔رویے کے متعلق شکایات کو شروع میں پکڑ لینا چاہیے۔ زیادہ عمر تک بچوں کے مسائل کا انتظار کرنے سے وہ تمباکونوشی اور اس قسم کی کئی دوسری بری عادات کے شکار ہو جاتے ہیں۔
۔۔بچے کو جوتیاں مارنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ بچے کی عزت نفس کو مجروح کرنے کا سبب اور بچے اور والدین کے رشتے میں دراڑ ڈالنے کا موجب بنتا ہے۔
اگر بچے کے ناموافق رویے کو شروع میں نہ پکڑا جائے تو یہ بات ثابت ہے کہ بہت زیادہ غصیلے اور بدتمیز بچے بڑے ہو کر کئی غلط کاموں میں پڑ جاتے ہیں۔ مثلاً ممنوعہ ادویات یا پھر دوسری نشہ آور اشیاءکا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ ڈاکٹر پیٹرسن جنہوں نے اس سلسلے میں کافی تحقیق کی ہے ان کے بقول بچے کی زندگی کے شروع کے حصے میں مداخلت کرنے سے بچے ٹین ایج میں پہنچنے تک کافی حد تک نارمل ہو جاتے ہیں لیکن اس کے بعد انہیں قابو کرنے کے چانس50فیصد رہ جاتے ہیں۔
ٹمپل یونیورسٹی میں کلاس روم کے اندر کی جانے والی ایک ریسرچ کے مطابق بچوں کو بات کرنے کے جدید طریقے سیکھانے چاہئیں۔ انہیں حکم دینے کی بجائے ان کے اندر ایسے رویوں کو پروان چڑھانا چاہیے کہ وہ خود اپنے رویہ پر نظر ثانی کریں جس میں برائی کا خوف زیادہ اہم ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جن بچوں کو بہت زیادہ سختی سے رکھا جاتا ہے اگر ان کا استاد کلاس روم سے باہر چلا جائے تو وہ بہت زیادہ شور وغل کرتے ہیں لیکن جن کے ساتھ استاد کا رویہ دوستانہ قسم کا ہوتا ہے تو ان کا طرز عمل بعد میں بھی ویسا ہی رہتا ہے جیسا کہ اس کی موجودگی میں۔
اب یہ بات سب کو معلوم ہے کہ بدتمیز بچے کو مسلسل ڈانٹنے ، مارنے اور ڈرانے سے وہ مزید گستاخ ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات صرف ڈانٹنے پہ ہی وہ جارحیت پر اتر آتا ہے۔ کیونکہ اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ دوسرا اس سے نہایت بدتمیزی سے بات کررہا ہے۔
بچے کی بڑھوتری کے لئے ہدایت
مختلف والدین سے بات کرنے کے بعد ہم نے کچھ ہدایت مرتب کی ہیں جس میں بچوں کی پرورش میں پیش آنے والے مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہم نے ان کے اہم نکات اور مسائل کو تجربات کی روشنی میں پر کھا ہے اور حل کے لئے مندرجہ ذیل تجاویز مرتب کی ہیں۔
۔۔پڑھنے کے لئے مناسب اور حوصلہ افزا ماحول کا ہونا ضروری ہے۔
۔۔بچے کے اندر توجہ، سنجیدگی اور زندگی میں کامیابی جیسی خصوصیات کی اہمیت اجاگر کرنا ضروری ہے تاکہ بچہ تعلیمی کارکردگی بہتر بنا سکے۔ دوسری صورت میں اس کی پڑھائی کے اندر دلچسپی ختم ہو جائے گی۔
۔۔بچے کو پڑھائی اور رہنمائی کے لئے ہر قسم کا تعاون ملنا چاہیے اس سلسلے میں والد اور والدہ کو بھی تعاون کرنا چاہیے۔
۔۔اچھے دوستوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔
۔۔بچوں سے بات کرتے وقت صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
۔۔والدین کو بچوں کے اندر اچھی عادات کو پختہ کرنے کے لئے ذاتی قربانیاں دینی چاہئیں۔ جن میں وقت، پیسہ اور توجہ شامل ہیں۔
۔۔والدین کو بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت صرف کرنا چاہیے۔
۔۔کسی کو زیادہ پسند کرنا خصوصی رغبت دینا یا دوہرے معیار سے اجتناب کرنا چاہیے۔
۔۔گھر کے ماحول اور اس کے افراد کے رویے کا بچے پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔
۔۔والدین اور بچوں کے درمیان ایک اچھا گھریلو ماحول ہونا چاہیے تاکہ بچے اپنے والدین کے ساتھ بلاخوف بات کر سکیں کیونکہ انہیں والدین سے نہ صرف رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ محبت، تحفظ اور مفاہمت کی ضرورت بھی رہتی ہے۔
۔۔والدین کو کم سے کم ٹی وی اورموبائل دیکھنا چاہیے۔ انہیں ٹی وی پرصرف ایسے پروگرام دیکھنے چاہئیں جو ان کے بچے کے لئے بھی مفید ہوں۔
۔۔بچوں کو پڑھائی میں دلچسپی لینے کے لئے اسکول اور گھردونوں جگہوں پر پڑھائی کے دلچسپ، جدید اور تخلیقی طریقہ کار اپنانے چاہئیں۔
- Home
- خواتین کا نوائے اسلام
- بچوں میں نظم و ضبط کی ضرورت
بچوں میں نظم و ضبط کی ضرورت
-
Ilyas - مئی 21, 2020
- خواتین کا نوائے اسلام
- 8
- 0 minute read


































