
نیویارک : اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں مقبوضہ مغربی کنارے میں 1,500 سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، جو گزشتہ سال کے کل اعداد و شمار کا 90 فیصد ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بتایا کہ نئے اعداد و شمار کے مطابق علاقے میں یہ بیدخلی آبادکاروں کے حملوں اور آمد و رفت پر پابندیوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ فلسطینیوں کو کام کی جگہ اور خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ متعدد دیہات کے داخلی دروازے بند رکھے گئے ہیں۔ بے گھر ہونے والوں میں 40 فیصد سے زیادہ بچے ہیں، اور اس سے انسانی امداد پر انحصار بڑھ گیا ہے جبکہ معاشی ذرائع بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے اوچا نے فلسطینیوں کے تحفظ اور مظالم کے مرتکب افراد کے احتساب کا دوبارہ مطالبہ کیا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں، ہسپتالوں میں جنریٹرز ناکام ہو رہے ہیں، اور حشرات کی وجہ سے انفیکشنز کے کیسز بڑھ رہے ہیں، جبکہ حفظان صحت کے سامان کی کمی بھی موجود ہے.


































