Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

امریکا میں ایک سال کے دوران نفرت انگیز جرائم میں 11 فیصد سے زائد اضافہ

واشنگٹن : امریکا میں ایک سال کے دوران نفرت انگیز جرائم میں گیارہ فیصد سے زائد اضافہ ہوگیا۔ امریکا کے قومی تحققیاتی ادارے ایف بی آئی نے سال 2020 سے 2021 کے دوران پیش آنیوالے نفرت انگیز جرائم کی رپورٹ جاری کردی۔ یہ نفرت انگیز جرائم سے متعلق ایف بی آئی کی پہلی تفصیلی رپورٹ ہے ۔رپورٹ کے مطابق 2020 میں نفرت پر مبنی 8 ہزار 120 جرائم پیش آئے تھے جبکہ یہ تعداد 2021 میں 9 ہزار 65 ہوگئی ہے جو کہ 11.6 فیصد اضافہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 65 فیصد متاثرین کو ان کی نسل۔ قوم یا نسب کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ 15.9 فیصد نفرت انگیز جرائم جنسی رجحان اور 14.1 فیصد مذہبی تعصب پر مبنی تھے۔ رپورٹ کے مطابق نفرت انگیز جرائم میں 43.2 فیصد ڈرانا دھمکانا۔ 35.5 فیصد معمولی حملے اور 20.1 فیصد شدید حملوں پرمشتمل ہیں۔ رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق سب سے زیادہ نفرت انگیز جرائم سیاہ فام مخالف رپورٹ کیے گئے۔ سفید فام۔ ہم جنس پرستی۔ یہود اور ایشیائی مخالف جرائم بھی سرفہرست رہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular