
ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ فضائی دفاع (ایئر ڈیفنس) کے شعبے میں جدید ساز و سامان فوج کے جنگی ڈھانچے میں شامل کر دیا گیا ہے۔ جنرل امیر محمد اکرمی نیا نے ممکنہ خطرات اور آئندہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوج کی تیاریوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ان کے بقول، تین ماہ کی جنگ بندی دفاعی منصوبہ بندی، بالخصوص فضائی دفاع کے شعبے میں، ایک اہم موقع ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ابتدا ہی سے بارہا واضح کیا تھا اور عملی طور پر بھی ثابت کیا کہ ہمیں دشمن پر نہ پہلے اعتماد تھا اور نہ اب ہے۔ اسی لیے اس عرصے کو اپنی جنگی صلاحیتوں کی بحالی اور مضبوطی کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس دوران جن دفاعی نظاموں کو مرمت کی ضرورت تھی انہیں دوبارہ فعال کیا گیا، جبکہ حال ہی میں خاص طور پر فضائی دفاع کے شعبے میں جدید آلات اور نظام بھی فوج کے جنگی ڈھانچے میں شامل کیے گئے ہیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ان نئے آلات نے ملک کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آپ یقیناً محسوس کر رہے ہوں گے کہ ملک کی فضائی سلامتی کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں کہیں بہتر ہو گئی ہے، اور اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہم نے جنگ بندی کے دوران ملنے والے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم مسلسل اس راستے پر گامزن ہیں کہ ہم لڑتے بھی ہیں، دفاعی سازوسامان بھی تیار کرتے ہیں اور اپنی طاقت میں بھی مسلسل اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم جنگی حالات میں جینا سیکھ چکے ہیں، یہ ہمارے لیے ایک معمول بن چکا ہے، اور ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ خود کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔


































