
بدگمانی
آیت اللہ حائری شیرازی
ایک شخص امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا اور پوچھا: ایک کمرے میں دہی کا پیالہ تھا ، اس کمرے سے ایک کتا باہر نکلا جبکہ اس کے ہونٹوں پہ تھوڑی دہی لگی ہوئی تھی۔ جب میں نے اس پیالے میں دیکھا تو ایک طرف سے کم تھا۔ آیا وہ دہی نجس ہے؟
امام نے پوچھا: کیا تم نے خود دیکھا ہے کہ اس کتے نے اس برتن میں منہ لگایا ہو؟
اس شخص نے کہا: نہیں لیکن نشانیوں سے تو ایسا لگتا ہے.
امام نے فرمایا:نہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے!
راوی کہتا ہے میں نے امام کے اس جواب پر شک کیا کہ ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ نجس نہ ہوا ہو؟
وہ راوی برا شخص نہیں تھا لیکن اس کے دل میں یہ شک ایجاد ہوا۔
چند دن گزر گئے ایک روز یہ راوی اپنے گھر میں ایک گوسفند ذبح کرنے بیٹھا۔ جیسے ہی اس نے چاقو گوسفند پہ پھیرا تو خون کا فوارہ اس کے کپڑوں اور ہاتھوں پہ گرا۔
اسی اثنا میں اسے کسی گھر سے چیخنے کی آواز آئی۔ وہ اسی حالت میں، ہاتھ میں چاقو لیے اور خونی لباس کے ساتھ دیکھنے گیا کہ کیا ہوا ہے۔ جب اس گھر میں پہنچا تو دیکھا کسی نے ایک شخص کا قتل کیا ہے اور وہ ہاتھ پاؤں مار رہا ہے اور اس گھر میں کوئی نہیں۔ اتنے میں دوسرے پڑوسی بھی آگئے اور پولیس بھی آگئی۔ پولیس نے آکے اس شخص کو قتل کے جرم میں پکڑ لیا۔ اس نے جتنا بھی کہا کہ میں نے یہ کام نہیں کیا، کسی نے یقین نہیں کیا۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ کسی مقتول کے سر پر ایک شخص کھڑا ہو چاقو لیے اور خونی لباس کے ساتھ اور کہے میں نے نہیں کیا۔
جس دن قاضی کو اس کا حکم سنانا تھا اس دن ایک شخص بھاگتا ہوا آیا اور کہا کہ یہ قاتل نہیں میں قاتل ہوں۔
نتیجے میں وہ آزاد ہو گیا اور قاتل کو جیل میں ڈال دیا گیا۔
وہ شخص امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں آیا اس حال میں کہ امام کے حکم کو مکمل طور پر سمجھ چکا تھا اور اپنا پورا قصہ سنایا۔ البتہ امام تو جانتے تھے کہ خدا نے چاہا کہ اس وسیلے سے اس کا ایمان محفوظ ہو سکے۔
نتیجہ:
اگر کوئی چیز کسی سے نسبت دو اور لوگ یقین کرلیں تو انتظار کرو کہ کوئی چیز تم سے نسبت دی جائے اور لوگ یقین کرلیں۔ اگر چاہتے ہو کوئی یقین نہ کرے تو تم بھی دوسروں کی ہر بات پہ یقین نہ کرو۔
روایت میں ہے کہ جیسا لوگوں کے بارے میں فیصلہ کروگے ویسا ہی تمہارے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ جو کسی دوسرے کا راز فاش کرے، کوئی اس کا راز فاش کرے گا۔
یہ ایسے گناہ ہیں کہ معمولاً ہمارے معاشرے میں پیش آتے ہیں۔ لہذا انسان کو چاہیے کہ خود کو ان چیزوں سے بچائے رکھے۔
کتاب: تمثیلات اخلاقی تربیتی


































