
تہران : ایران میں لاکھوں افراد فسادیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور جلاؤ گھیراؤ سرکاری املاک پر حملوں اور اسلامی مقدسات کی توہین کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ درالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے بعد تہران یونیورسٹی سے ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز، پلے کارڈ، ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور شہید جنرل قاسم سلیمانی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ مظاہرین نے منافقین اور دشمنوں کے خلاف زبردست نعرے لگائے۔ تہران کی طرح ہمدان، زنجان، مشہد مقدس، قم، شیراز اور یزد میں بھی بڑی بڑی ریلیاں نکالی گئیں اور زبردست مظاہرے کئے گئے۔
واضح رہے کہ تہران میں مہسا امینی کی موت کو بہانہ بنا کر شرپسندوں نے کئی دنوں سے ہنگامے برپا کر رکھے ہیں اور جلاؤ گھیراؤ کررہے ہیں۔ ہنگاموں میں عمومی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، فائر بریگیڈ کی 23 گاڑیوں، 43 بسوں اور 54 بس اسٹینڈ کو بری طرح نقصان پہنچایا۔
یاد رہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک مہسا امینی کی موت سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مسئلے کو لے کر تہران کے خلاف ایک عالمی محاذ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ماضی کی طرح انھیں اس بار بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا اس لئے کہ ایرانی قوم ایک پیج پر ہے اور آج ایران کے غیور عوام نے ایک بار پھر اس کا عملی ثبوت پیش کیا ہے۔


































