
جنیوا : یونیسف کا کہنا ہے کہ کئی دنوں سے جاری شدید بارش کے بعد جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو جانے والے خاندانوں کو اپنے بچوں کو گرم اور خشک رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں شدید بارش اور تیز ہواؤں نے پہلے ہی مشکل حالات کو مزید بدتر بنا دیا ہے۔ یونیسف کے مطابق عارضی خیموں میں رہنے والے لاکھوں بچے اب جان لیوا بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ غزہ میں تقریباً دس لاکھ افراد ایسے خیموں میں رہ رہے ہیں جو سخت موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب طور پر مضبوط اور محفوظ نہیں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ غزہ میں شدید بارش اور طوفان سے تباہی اسرائیل کی جاری نسل کشی کے نتائج ہیں۔
تنظیم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ غزہ کو شدید سردیوں کے لیے تیار کرنے میں فوری مدد کی جائے۔


































