
کابل: بچوں کی دیکھ بھال سے متعلق عالمی ادارے سیو دی چلڈرن نے کہا ہے کہ لاکھوں افغان بچوں کو پاکستان سے واپسی پر بھوک کے بحران جیسی صورت حال کا سامنا ہے۔ سیو دی چلڈرن کے مطابق ستمبر 2023 کے بعد سے پانچ لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افغان باشندے اپنے ملک لوٹ چکے ہیں۔ جس میں لگ بھگ نصف تعداد بچوں کی ہے۔ واپس لوٹنے کے بعد 65 فی صد بچے اسکول میں داخل نہیں ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق واپس آنے والوں میں سے اکثریت کے پاس اپنی گزر اوقات کے وسائل بہت کم ہیں یا بالکل نہیں ہیں۔ 99 فی صد خاندانوں اور افغانستان میں ان کی میزبانی کرنے والے خاندانوں کے پاس خوراک کا اتنا ذخیرہ نہیں ہے جو ان کی ایک سے دو ماہ کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ خوراک کی اتنی قلت ہے کہ اپنے ملک میں واپس آنے والوں کی میزبانی کرنے والوں نے خاندانوں کے لیے خوراک کی مقدار گھٹا دی ہے یا خاندان کے بالغ افراد سے کہا ہے کہ خود کم کھائیں تاکہ بچوں کو ہفتے میں کم از کم دو دن کھانا مل سکے۔


































